صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 920 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 920

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲۰ ۹۷- كتاب التوحيد تشریح : وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ۔۔۔اور تم اپنے عیب اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ کہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں تمہارے خلاف گواہی نہ دے دیں (بلکہ دوسرے لوگوں کی انگشت نمائی کے ڈر سے ایسا کرتے تھے) بلکہ تم کو یقین تھا کہ اللہ کو تو بہت سی تمہاری باتوں کا علم ہی نہیں۔انسان بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے اس لیے باز رہتا ہے کہ اسے لوگوں کا ڈر اور خوف ہوتا ہے کہ وہ دیکھ لیں گے اور مجھے شرمندگی اور ذلت کے علاوہ سزا بھی ملے گی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس سوچ کو بطور دلیل لے کر اس سے آگے کی بات بتا کر توجہ دلائی ہے کہ انسانوں سے تو شاید تمہارا کوئی عمل یا گناہ مخفی ہو سکتا ہے اور تم انسان کو دھو کہ بھی دے سکتے ہو مگر اس امکان کے جانتے ہوئے بھی تم انسانوں کے خوف سے ارتکاب معاصی سے باز آتے ہو۔مگر وہ ذات جو بینا ہے اور ہر جگہ اور ہر لمحہ اس کی نظر میں ہے تم اس کی سزا سے کیسے بچو گے اور انسان کو یقین دلانے کے لیے اس کے جسم کے ریکارڈ سسٹم کو پیش کیا ہے کہ تمہارے کانوں اور تمہاری آنکھوں اور تمہاری جلدوں میں ہر چیز کاریکارڈ موجود ہے تم اس کامل سسٹم سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔قرآنِ کریم نے ریکار ڈ سسٹم کا اُس وقت بیان فرمایا جب انسان کا علم اس حقیقت تک نہیں پہنچا تھا مگر آج کا انسان اس کا انکار کیسے کر سکتا ہے اور پھر قیامت کے دن یہ حقیقت سب پر آشکار ہو جائے گی تب انسان بوقتِ حساب حیران ہو کر کہے گا: يُويْلَتَنَا مَالِ هذا الكتب لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا أَحْضُهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا (الکھف:۵۰) اے (افسوس) ہماری تباہی (سامنے کھڑی ہے ) اس کتاب کو کیا (ہوا) ہے (کہ) نہ کسی چھوٹی بات کو اس کا احاطہ کیے بغیر چھوڑتی ہے اور نہ کسی بڑی بات کو اور جو کچھ انہوں نے کیا (ہوا) ہو گا، اسے اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرارت کسی پر ظلم نہیں کرتا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) نیز سورہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ السِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النور: ۲۵) اُس دن جبکہ اُن کی زبانیں بھی اور اُن کے ہاتھ بھی اور اُن کے پاؤں بھی اُن کے اعمال کے متعلق جو وہ کرتے تھے اُن کے خلاف گواہی دیں گے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) آج کے دور میں ریکارڈ کی حفاظت کے اس سسٹم کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔فنگر پرنٹس کے ذریعے مجرموں کو پکڑنے کا جو تصور سائنس نے آب پیش کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی نے چودہ سو سال پہلے یہ بات بیان کر دی کہ انسانی جسم کے اعضاء سے جو افعال صادر ہوتے ہیں وہ ایک محفوظ کتاب میں ریکار ڈ ہو رہے ہیں اور جب حساب کتاب ہو گا تو انسانوں کی جلدیں اور اعضاء اُن افعال کی گواہی دیں گے۔اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس ریکارڈ سسٹم کو سمجھنے کے لیے ایک مصنف ابو حمزہ کی درج ذیل تحریر صرف ایک رخ کی معمولی جھلک پر مشتمل ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ نظام قدرت کا احاطہ انسان کے بس میں نہیں۔ڈی این اے یعنی ”ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ“۔ہمارا جسم ۳۷ ٹرلین