صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 919
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۹ ۹۷ - كتاب التوحيد بَاب ٤١: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سمعكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِن ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا ممَّا تَعْمَلُونَ (حم السجدة: ٢٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تم اپنے عیب اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ کہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں تمہارے خلاف گواہی نہ دے دیں (بلکہ دوسرے لوگوں کی انگشت نمائی کے ڈر سے ایسا کرتے تھے) بلکہ تم کو یقین تھا کہ اللہ کو تو بہت سی تمہاری باتوں کا علم ہی نہیں عبد اللہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ٧٥٢١: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۷۵۲۱: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ ہمیں بتایا۔منصور نے ہم سے بیان کیا۔منصور نے عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِي مجاہد سے ، مجاہد نے ابو معمر سے ، ابو معمر نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ بیت اللہ کے پاس دو ثقفی اور ایک قریشی یا (کہا :) ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ أَوْ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ و قریشی اور ایک ثقفی اکٹھے ہوئے۔ان کے دو كَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلَةٌ فِقْهُ پیوں کی چہ بیاں بہت تھیں، ان کی عقلوں کی سمجھ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ کم تھی۔ان میں سے ایک نے کہا: بھلا بتلاؤ تو سہی يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟ قَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ کہ اللہ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔دوسرے نے کہا: إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَ قَالَ سنتا ہے اگر ہم اُونچا بولیں اور اگر ہم چھپ کر بات الْآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ کریں تو نہیں سنتا اور دوسرا بولا: اگر وہ ایسا ہے کہ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى جب ہم اُونچا بولیں تو وہ سنتا ہے تو پھر وہ ضرور اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم چھپ کر بات کریں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: یعنی اور تم اپنے عیب اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ جُلُودُكُم ( حم السجدة: ٢٣) الآية۔کہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے وَ مَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا أطرافه: ٤٨١٦، ٤٨١٧۔چمڑے تمہارے خلاف گواہی نہ دے دیں۔