صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 918 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 918

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۸ و كتاب التوحيد ہیں عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے۔تم اے مشرکو بجز خدا کے صرف بے جان بتوں کی پرستش کرتے ہو اور سراسر جھوٹ پر جم رہے ہو۔سو اس پلیدی سے جو بت ہیں پر ہیز کرو اور دروغ گوئی سے باز آؤ۔کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں اور تم سورج اور چاند کو بھی مت سجدہ کرو اور اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔اگر حقیقی طور پر خدا کے پرستار ہو تو اسی خالق کی پرستش کرو نہ مخلوق کی۔سورج کو یہ طاقت نہیں کہ چاند کی جگہ پہنچ جائے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے کوئی ستارہ اپنے فلک مقرری سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔زمین آسمان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مخلوق اور بندہ خدا ہونے سے باہر ہو اور اگر کوئی کہے کہ میں بھی بمقابلہ خدائے تعالیٰ ایک خدا ہوں تو ایسے شخص کو ہم واصل جہنم کریں اور ظالموں کو ہم یہی سزا دیا کرتے ہیں۔سو تم خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور یہ مت کہو کہ تین ہیں باز آجاؤ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔اے لوگو ایک مثال ہے تم غور کر کے سنو جن چیزوں سے تم مرادیں مانگتے ہو وہ چیزیں تو ایک لکھی بھی پیدا نہیں کر سکتیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس سے چھوڑا نہیں سکتیں۔طالب بھی ضعیف ہیں اور مطلوب بھی ضعیف یعنی مخلوق چیزوں سے مرادیں مانگنے والے ضعیف العقل ہیں اور مخلوق چیزیں جو معبود ٹھہرائی گئیں وہ ضعیف القدرت ہیں۔مشرک لوگوں نے جیسا چاہئے تھا خدا کو شناخت نہیں کیا وہ ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدا کا کارخانہ بغیر دوسرے شرکاء کے چل نہیں سکتا حالا نکہ خدا اپنی ذات میں صاحب قوتِ تامہ اور غلبہ کا ملہ ہے تمام قوتیں اسی کے لئے خاص ہیں۔“ براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه در حاشیه صفحه ۵۲۰ تا۵۲۴)