صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 917 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 917

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۷ ۹۷- كتاب التوحيد شریک نہ کرے۔تو خدا کے ساتھ کسی دوسری چیز کو ہر گز شریک مت ٹھہر اؤ خدا کا شریک ٹھہر انا سخت ظلم ہے۔تو بجز خدا کے کسی اور سے مرادیں مت مانگ سب ہلاک ہو جائیں گے ایک اسی کی ذات باقی رہ جاوے گی۔اسی کے ہاتھ میں حکم ہے اور وہی تمہارا مرجع ہے۔تیرے خدا نے یہ چاہا ہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور اپنے ماں باپ سے احسان کرتا رہ اور اگر تجھے اس بات کی طرف بہکا دیں کہ تو میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہر اوے تو ان کا کہا مت مان۔اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو بجز خدا اور کوئی تیرا یار نہیں کہ اس تکلیف کو دور کرے اور اگر تجھے کچھ بھلائی پہنچے تو ہر ایک بھلائی کے پہنچانے پر خداہی قادر ہے کوئی دوسرا نہیں۔اسی کا تمام بندوں پر تسلط اور تصرف ہے اور وہی صاحب حکمت کاملہ اور ہر یک چیز کی حقیقت سے آگاہ ہے تمام حاجتوں کو اس سے مانگنا چاہئے۔اور جو لوگ بجز اس کے اور اور چیزوں سے اپنی حاجت مانگتے ہیں وہ چیزیں ان کی دعاؤں کا کچھ جواب نہیں دیتیں۔ایسے لوگوں کی یہ مثال ہے جیسے کوئی پانی کی طرف دونوں ہاتھ پھیلا کر کہے کہ اے پانی میرے مونہہ میں آجا۔سو ظاہر ہے کہ پانی میں یہ طاقت نہیں کہ کسی کی آواز سنے اور خود بخود اس کے مونہہ میں پہنچ جائے۔اسی طرح مشرک لوگ بھی اپنے معبودوں سے عبث طور پر مدد طلب کرتے ہیں جس پر کوئی فائدہ مترتب نہیں ہو سکتا۔گو کوئی مقرب الہی ہو مگر کسی کی مجال نہیں کہ خواہ نخواہ سفارش کر کے کسی مجرم کو رہا کرا دے۔خدا کا علم ان کے پیش و پس پر محیط ہو رہا ہے۔اور ان کو خدا کے علوم سے صرف اسی قدر اطلاع ہوتی ہے جن باتوں پر وہ مطلع کرے اس سے زیادہ نہیں اور وہ خدائے تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں اور خدا کے تمام کامل نام اسی سے مخصوص ہیں اور ان میں شرکت غیر کی جائز نہیں۔سوخدا کو انہیں ناموں سے پکار و جو بلاشرکت غیرے ہیں یعنی نہ مخلوقات ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو۔اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو۔اور ان لوگوں سے جدار ہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکت غیر جائز رکھتے