صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 916 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 916

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۶ ۹۷- كتاب التوحيد مَعَكَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔میں نے کہا: پھر کون بِحَلِيلَةِ جَارِكَ۔سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنی اولاد کو مار ڈالے، تم اس سے ڈرتے ہو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ نہ کھائے۔میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسایہ کی جو رو سے زنا کرے۔أطرافه ٤٤٧٧ ٤٧٦١ ، ۲۰۰۱، ٦۸۱۱، ٦٨٦١، ٧٥٣٢۔تشريح : فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا: اللہ تعالی کایہ فرمانان: پس اللہ کے ہمسر نہ بناؤ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اے لوگو! تم اس خدائے واحد لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا چاہئے کہ تم اس قادر توانا سے ڈرو جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے سو تم دیدہ دانستہ انہیں چیزوں کو خدا کا شریک مت ٹھہر اؤ جو تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔خدا ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں وہی آسمان میں خدا ہے اور وہی زمین میں خدا۔وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے وہی باطن۔آنکھیں اس کی کنہ دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور اس کو آنکھوں کی کنہ معلوم ہے وہ سب کا خالق ہے اور کوئی چیز اس کی مانند نہیں اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر یک چیز کو ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود پیدا کیا ہے جس سے وجو د اس ایک حاصر اور محمد د کا ثابت ہوتا ہے اس کے لئے تمام محامد ثابت ہیں اور دنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہر یک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و مآب ہے۔خدا ہر ایک گناہ کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے گا پر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔سو جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فساد نہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں