صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 915
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۵ ۹۷- كتاب التوحيد ليَسلَ الصُّدِقِينَ عَنْ صِدقهم نیز جو بندوں کے افعال اور ان کے کردار کے (الاحزاب: ٩) الْمُبَلِّغِينَ الْمُؤَدِّينَ مِنَ مخلوق ہونے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے کیونکہ الرُّسُلِ۔وَإِنَّا لَهُ حَافِظُونَ عِنْدَنَا۔وَالَّذِى الله تعالیٰ فرماتا ہے : یعنی جس نے ہر چیز کو پیدا کیا جاء بالصدق (الزمر: ٣٤) الْقُرْآنُ ہے پھر اس کے لئے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔وَصَدَّقَ بِهِ الْمُؤْمِنُ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اور مجاہد نے کہا: مَا تَنَزِّلُ الْمَلَائِكَةُ إِلَّا بِالْحَقِ هَذَا الَّذِي أَعْطَيْتَنِي عَمِلْتُ بِمَا فِيهِ سے مراد یہ ہے کہ فرشتے پیغام اور عذاب لے کر اترتے ہیں۔لِيَسْأَلُ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ سے مراد وہ رسول ہیں جو پیغام الہی پہنچاتے ہیں اور اپنے فرض کو ادا کرتے ہیں۔وَإِنَّا لَهُ حَافِظون سے مراد ہے کہ وہ ہمارے پاس موجود ہیں۔وَالَّذِي جَاءَ بالصدق سے مراد قرآن اور وَصَدَّقَ بِہ سے مراد مؤمن ہے۔وہ قیامت کے روز کہے گا: یہ ہے وہ جو تو نے مجھے دیا۔میں نے جو کچھ اس میں تھا اس پر عمل کیا۔٧٥٢٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۷۵۲۰ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلِ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللهِ منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے عمرو بن قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شرجیل سے ، عمرو نے حضرت عبد اللہ سے روایت أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ قَالَ أَنْ کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قُلْتُ إِنَّ سے پوچھا: کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ذَلِكَ لَعَظِيمٌ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کا ہمسر ٹھہرائے أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يُطْعَمَ حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔میں نے کہا: واقعہ