صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 914
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۴ ۹۷- كتاب التوحيد بَاب ٤٠ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا (البقرة: ٢٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: پس اللہ کے ہمسر نہ بناؤ وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ وَتَجْعَلُونَ لَه اور اللہ جل ذکرہ کا فرمانا: یعنی اور اس کے شریک أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَلَمِينَ ( حم السجدة : ۱۰) مقرر کرتے ہو۔یہ (خدا تو ) سب جہانوں کا رب وَلَقَدْ أَوْحَى إِلَيْكَ وَ إِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ہے۔اور یہ فرمانا: ) یعنی حالا نکہ خود خدا کی طرف لين اشْرَكْتَ لَيَحْطَنَ عَمَلكَ وَ لَتَكُونَنَّ مِنَ سے تیری طرف اور تجھ سے پہلے (نبیوں) کی طرف الخسِرِينَ بَلِ اللهَ فَاعْبُدُ وَكُنْ مِن وحی کی گئی ہے ( اور ہر ایک نبی کو کہا گیا تھا کہ ) اگر تو شرک کرے گا تو تیرے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تُو اُن لوگوں میں سے ہو جائے گا جو گھاٹے میں پڑ جاتے ہیں۔(پس ایسانہ کر ) بلکہ اللہ کی عبادت کر اور شکر گزار بندوں میں شامل ہو جا۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی اور وہ لوگ ایسے الشكرين (الزمر: ٦٧،٦٦) وَقَوْلُهُ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ الها أخر (الفرقان: ٦٩) وَقَالَ عِكْرِمَهُ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (يوسف : ۱۰۷) ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں ولين سالتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمُ (الزخرف: ۸۸) پکارتے۔منْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَ اور عکرمہ نے یہ آیت پڑھی (ترجمہ) اور اُن الله (لقمان: ٢٦) فَذَلِكَ إِيمَانُهُمْ وَهُمْ میں سے اکثر (لوگ) اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر اس حالت میں کہ وہ (ساتھ ساتھ شرک بھی يَعْبُدُونَ غَيْرَهُ۔وَمَا ذُكِرَ فِي خَلْقِ أَفْعَالِ الْعِبَادِ کرتے جاتے ہیں۔وَأَكْسَابِهِمْ لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَخَلَقَ كُل اور اگر تُو اُن سے پوچھے کہ اُن کو کس نے پیدا کیا شَيْءٍ فَقَدَّرَةَ تَقْدِيرًا ( الفرقان: ٣) ہے اور آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَا تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وہ ضرور کہیں گے : اللہ نے۔اس سے مراد ان کا إِلَّا بِالْحَقِّ يَعْنِي بِالرِّسَالَةِ وَالْعَذَابِ ایمان ہے حالانکہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔