صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 913 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 913

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۳ ۹۷ - كتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” ذکر عموماً تین قسم کا ہوتا ہے۔اول کسی اچھی یا بری بات کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کو یاد کر لینا۔جیسے گناہ کی تحریک ہو تو استغفراللہ کہنا۔کوئی مصیبت پہنچے تو انا للہ کہنا۔خوشی کی خبر ملے تو الحمد للہ کہنا۔دوم دوسرے کی بات سن کر اللہ تعالیٰ کو یاد کر لینا۔جیسے کسی مصیبت زدہ کا واقعہ سنا تو اس کیلئے دعا کی اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اپنے فضل سے ہمیں اس قسم کے مصائب سے بچا رکھا ہے۔سوم خدا تعالیٰ کے متعلق باتیں کرنا۔یعنی اپنی مجالس میں خدا تعالیٰ کے رحم اور کرم کے متعلق گفتگو کرنا، دشمنوں کے اعتراضات کا جواب دینا، اُس کے نام کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کرنا۔اور بار بار اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرنا تا کہ اس کے نتیجہ میں (۱) خدا تعالیٰ کی صفات انسان کے دل پر نقش ہوں (۲) اور پھر وہ مٹیں نہیں بلکہ ہمیشہ قائم رہیں (۳) اور انسان کے ہر قول و عمل سے انکا ظہور ہو۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة ، زير آيت فاذكروني أذكركم وَاشْكُرُوا لي۔۔جلد دوم صفحه ۲۸۲ نیز آپ نے فرمایا: عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کلام محمود مع فرهنگ، صفحه ۱۳۴) قرآنِ شریف میں ہے: فَاذْكُرُونِی اذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوالِى وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة: ۱۵۳) یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو اور میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات صاف ہے۔“ ( ملفوظات، جلد ۳، صفحه (۱۸۹)