صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 912
صحیح البخاری جلد ۱۶ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۹۱۲ ۹۷۔کتاب التوحيد بات تم پر کسی پہلو سے) مشتبہ نہ رہے، پھر اسے (یونس: ۷۳٬۷۲) مجھ پر نافذ کر دو اور مجھے (کوئی موقعہ اور ) مہلت نہ دو۔پھر بھی اگر تم پھر جاؤ تو اس میں میرا کوئی نقصان نہیں (بلکہ تمہارا ہی ہے) کیونکہ میں نے تم سے (اس کے بدلہ میں) کوئی اجر نہیں مانگا۔میرا اجر اللہ کے سوا اور کسی پر نہیں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے ) کامل فرمانبر داروں میں سے بنوں۔غُمَّةٌ هَمْ وَضِيقٌ۔قَالَ مُجَاهِدٌ اقْضُوا عُمةٌ کا معنی غم اور تنگی ہے۔مجاہد نے کہا: اقضُوا إِلَيَّ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ افْرُقْ اقْضِ۔إِلَى کا معنی ہے: جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اُسے پورا کر لو۔کہتے ہیں: افرقی اقض۔یعنی اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللهِ فیصلہ کر دے اور مجاہد نے کہا: وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ (التوبة: ٦) إِنْسَانٌ يَأْتِيهِ فَيَسْتَمِعُ مَا الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلِمَ يَقُولُ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَهُوَ آمِنْ حَتَّى اللَّهِ - اس سے مراد وہ انسان ہے جو آنحضرت يَأْتِيَهُ فَيَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ، وَحَتَّى يَبْلُغَ کے پاس آتا تھا اور جو آپ فرماتے تھے اور جو مَأْمَنَهُ حَيْثُ جَاءَ النَّبَأُ الْعَظِيمُ آپ پر نازل کیا جاتا اس کو سنتار ہتا۔تو اس وقت تک کہ آپ کے پاس رہتا امن میں ہوتا اور کلام الْقُرْآنُ صَوَابًا حَقًّا فِي الدُّ اللہ سنتا۔حَتَّى يَبْلُغَ مَأْمَنَہ کا یہ معنی ہے کہ وہ وہاں وَعَمَلٌ بِهِ۔پہنچ جائے جہاں سے وہ آیا تھا۔النَّبَأُ الْعَظِيمُ سے مراد قرآن ہے۔صوابا سے مراد دنیا میں حق بات کہنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔تشريح۔ذِكْرُ اللهِ بِالْأَمْرِ وَذكرُ الْعِبَادِ بالدعاء: ذکر الہی کا علم اور بندوں کا دعاء تفرع، رسالت اور تبلیغ کرنا اللہ کے ذکر کا باعث ہے۔