صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 911
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱۱ ۹۷- كتاب التوحيد -92 فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ کی طرح ڈھیر بھی لگ گئے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَجِدُ هَذَا إِلَّا قُرَشِيًّا اے ابن آدم !الو سنبھالو کیونکہ تمہیں کوئی چیز بھی أَوْ أَنْصَارِيَّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ فَأَمَّا سیر نہیں کرتی۔تو وہ بدوی بولا: یا رسول اللہ ! آپ نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ اس شخص کو قریشی یا انصاری ہی پائیں گے کیونکہ یہی لوگ زراعت پیشہ ہیں اور ہم جو ہیں تو ہم تو رَسُولُ الله۔طرفه: ٢٣٤٨- زراعت پیشہ نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس پڑے۔باب ۳۹ ذِكْرُ اللَّهِ بِالْأَمْرِ وَذِكْرُ الْعِبَادِ بِالدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالرِّسَالَةِ وَالْبَلَاغِ ذکر الہی کا حکم اور بندوں کا دعا، تضرع، رسالت اور تبلیغ کرنا اللہ کے ذکر کا باعث ہے لِقَوْلِهِ تَعَالَى: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پس(جب میں اس (البقرة:١٥٣) قدر فضل کرنے والا ہوں تو) تم مجھے یاد رکھو میں (بھی) تمہیں یاد کر تار ہوں گا۔واتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا نُوحٍ إِذْ قَالَ اور تو انہیں نوح کا حال (بھی) سنا کیونکہ اس نے لِقَوْمِهِ يُقَومِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ (بھی) اپنی قوم سے کہا تھا ( کہ اے میری قوم! مقَامِ وَ تَذْكِيری پایتِ اللهِ فَعَلَی اگر تمہیں میرا ( خداداد) مرتبہ اور اللہ کے نشانوں اللهِ تَوَكَّلْتُ فَاجِعُوا امركُمْ وَ کے ذریعہ سے تمہیں (تمہارا فرض) یاد دلانا نا گوار شُرَكَاءَ كُم ثُمَّ لَا يَكُن أَمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ (گذر تا) ہے تو یاد رکھو کہ صرف اللہ کی ذات پر میں غتَةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنْظِرُونِ بھروسہ رکھتا ہوں۔تم اپنے تجویز کردہ شریکوں فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ سمیت اپنی بات (کے متعلق سب پختگی کے إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ وَاُمِرْتُ آن سامانوں کو جمع کر لو (اور) نیز چاہیئے کہ تمہاری ร 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۶۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔