صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 909
صحیح البخاری جلد ١٦ ۹۰۹ ۹۷- كتاب التوحيد بعثت کے پہلے یہ معراج ہوا تھا اور پھر اسی حدیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ نمازیں پانچ مقرر کر کے پھر آخر کار ہمیشہ کیلئے پانچ مقرر ہوئیں۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں یہ معراج نبوت سے پہلے تھا تو اس کو نمازوں کی فرضیت سے کیا تعلق تھا اور قبل از وحی جبرائیل کیوں کر نازل ہو گیا اور جو احکام رسالت سے متعلق تھے وہ قبل از رسالت کیوں کر صادر کئے گئے۔ غرض ان احادیث میں بہت سے تعارض ہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ حدیثیں موضوع ہیں بلکہ قدر مشترک ان کا بشر طیکہ قرآن سے معارض نہ ہو قابل تسلیم اور واجب العمل ہے۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ نصوص بینه قطعیہ قرآن کریم کو اُن پر مقدم رکھا جائے۔ اور اگر ایک محدث جس کو خدا تعالیٰ سے بذریعہ متواتر تعلیمات ایک علم قطعی یقینی ملا ہے۔ قرآن سے اپنی وحی تحدیث کو موافق و مطابق پاکر ان احادیث کو جو اخبار و قصص سے متعلق ہیں اور تعامل کے سلسلہ سے باہر ہیں مقدم سمجھے اور ان ظنی امور کو اس یقین کے تابع کرے جو اس کو ایسے چشمہ فیض سے حاصل ہوا ہے جس سے وحی نبوت ہے تو یہ اس کو حق پہنچتا ہے کیونکہ ظن کو یقین کے تابع کرنا عین معرفت اور سراسر سیرت ایمان ہے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن، جلد ۳، حاشیه صفحه ۶۱۹،۶۱۸) باب ۳۸ : كَلَامُ الرَّبِّ مَعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ جنتیوں سے پرورد گار کا باتیں کرنا ٧٥١٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۷۵۱۸: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ابن وہب نے مجھے بتایا، کہا: مالک نے مجھ سے عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ بیان کیا۔ مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يَقُولُ لِأَهْلِ کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جنتیوں الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ سے فرمائے گا: اے جنت والو ! اور وہ کہیں گے: