صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 908
صحیح البخاری جلد ۱۶ کسی آسمان میں۔ ۹۰۸ ۹۷- كتاب التوحيد لیکن واضح ہو کہ تعارض دور کرنے کیلئے یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر پانچ معراج ہی تسلیم کئے جائیں تو پھر بھی وہ اختلاف جو انبیاء کی رویت کی نسبت پایا جاتا ہے کسی طرح دور نہیں ہو سکتا کیونکہ خود انہیں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کیلئے خاص خاص مقامات آسمانوں میں مقرر ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ حدیث معراج جو امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید میں لکھی ہے جو بخاری مطبوعہ کے صفحہ ۱۱۲۰ میں موجود ہے بآواز بلند پکار رہی ہے کہ ہر یک نبی آسمانوں پر اپنے اپنے مقام پر قرار یاب ہے جس سے بڑھ نہیں سکتا کیونکہ اس حدیث میں یہ فقرہ بھی درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ کو ساتویں آسمان میں دیکھا اور جب ساتویں آسمان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے جانے لگے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے یہ گمان نہ تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کا رفع ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر موسیٰ کے اختیار میں تھا کہ کبھی پانچویں آسمان پر آ جائے اور کبھی چھٹے پر اور کبھی ساتویں پر تو یہ گریہ و بکا کیسا تھا جیسے پانچویں سے یا چھٹے سے ساتویں پر چلے گئے ایسا ہی آگے بھی جاسکتے تھے اور قرآن کریم سے بھی ظاہر ہوتا ہے ہے کہ کہ کوئی شخص عروج میں اس اپنے نفسی نقطہ سے آگے گزر نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے پانچ معراجوں کے ماننے سے ایک اور مصیبت یہ پیش آتی ہے کہ قرآن کریم اور خدائے تعالیٰ کے احکام میں محض بے جا اور لغو طور پر منسوخیت ماننی پڑتی ہے اور اوامر نا قابل تبدیل اور مستمرہ کو فضول طور پر منسوخ ماننا پڑتا ہے اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طور پر پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والا اعتقاد کرنا پڑتا ہے۔“ آپ مزید تحریر فرماتے ہیں: (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳، صفحہ ۶۱۷۰۶۱۶) کتاب التوحید کی حدیث جو بخاری کے صفحہ ۱۱۲۰ میں ہے جس میں قبل ان یولی الیہ لکھا ہے یہ خود اپنے اندر تعارض رکھتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو یہ لکھدیا کہ