صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 907 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 907

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۰۷ ۹۷۔کتاب التوحيد ہے۔آگے وہی معراج کا واقعہ مذکور ہے۔اور اس میں بیت المقدس کی طرف جانے کا ذکر نہیں بلکہ سیدھا آسمان پر جانے کا ذکر ہے۔اور آخر میں نمازوں کے فرض ہونے کا ذکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج کا واقعہ کم سے کم ایک دفعہ نبوت کے ملنے سے عین پہلے یا عین اس وقت ہوا ہے اور یہی بات درست ہے۔کیونکہ نمازیں فرض شروع اسلام سے ہیں اور ایک سال بھی نبوت کے بعد ایسا نہیں گزرا۔جس میں نمازیں فرض نہ ہوں (اکثر محققین اس طرف گئے ہیں کہ نبوت سے پہلے کا نہیں۔اس وقت کا ہے۔راوی کو زمانہ کے قرب کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ہے اور میرے نزدیک بھی یہی صحیح ہے۔کیونکہ نبوت سے پہلے نمازوں کا فرض ہونا عقل کے خلاف ہے۔خلاصہ یہ کہ معراج اور اسراء دو الگ الگ واقعات ہیں۔اور جیسا کہ سورہ نجم کی آیات سے ظاہر ہے معراج دو ہیں۔اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک معراج نبوت کے ابتدائی ایام میں ہوا ہے۔بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ اسی معراج میں شرعی نبوت کی بنیاد پڑی ہے۔اور نمازیں فرض کی گئی ہیں۔اور دوسر ا معراج ۵ بعد نبوت میں ہوا ہے۔یا یہ کہ وہ بھی اس سے پہلے ہو چکا تھا صرف اس کا ذکر سورہ نجم میں کیا گیا ہے۔اور اسراء کا واقعہ بالکل جدا ہے۔اور گیارہویں بارہویں سال بعد نبوت ظہور میں آیا ہے جبکہ حضرت خدیجہ فوت ہو چکی تھیں اور آپ اُم ہائی کے مکان میں رہتے تھے جیسا کہ متواتر احادیث اور روایات تاریخیہ سے ثابت ہے۔( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، زیر آیت سُبحن الذي أسرى بعبده لیلا ، جلد ۴ صفحه ۲۸۴، ۲۸۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: و بعض نے احادیث معراج کا جو صحیح بخاری میں ہیں تعارض دور کرنے کے لئے یہ جواب دیا ہے کہ حقیقت میں وہ صرف ایک ہی معراج نہیں بلکہ پانچ معراج ہوئے تھے۔کوئی بیداری میں اور کوئی خواب میں اور کوئی بعد از زمانہ وحی اور کوئی قبل از زمانہ وحی۔اور کوئی بیت اللہ میں اور کوئی اپنے گھر کے حجرہ میں۔اسی وجہ سے انبیاء کی رویت میں بھی اختلاف پڑا۔کبھی کسی کو کسی آسمان میں دیکھا اور کبھی