صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 906
صحیح البخاری جلد ۱۶ ٩٠٦ ۹۷ - كتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک مِنْهُمْ مِنْ كَلَّمَ اللهُ (البقرۃ: ۲۵۴) سے تشریعی نبی مراد ہیں اور رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ سے غیر تشریعی انبیاء مراد ہیں۔اس لئے کہ کلام تو ہر ایک رسول سے ہوتا ہے۔بغیر کلام کے وہ نبی کیونکر ہو سکتا ہے اور درجہ بھی ہر ایک کا بلند ہوتا ہے۔لیکن جب مقابلہ ہو تو اس کے یہی معنے ہونگے کہ بعض کو شریعت دی اور بعض کو صرف نبوت کا درجہ دیا گیا۔جیسے حضرت عیسی ہیں ان کو شریعت نہیں دی گئی محض نبوت عطا کی گئی ہے۔اس کا ثبوت قرآن کریم سے بھی ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے: وَكَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكلِيمًا (النساء: ۱۶۵) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے خوب اچھی طرح کلام کیا۔یہ کہ كلم اللہ کے معنے شریعت کے ہیں اس کا ثبوت ایک حدیث سے بھی ملتا ہے۔امام احمد نے ابوذر سے روایت کی ہے کہ رسول کریم ملی ایم نے فرمایا: پہلے نبی آدم تھے۔وہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ ونی کان۔کیا وہ نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اني مُكَلَّمُ ( تفسیر فتح البیان جلد اول ص ۳۳۳) وہ منظم نبی تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض نبی مکلم نہیں ہوتے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام تو سب انبیاء سے کیا ہے اس لئے اس جگہ کلام سے مراد کلام شریعت ہے۔(تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۷۳) لَيْلَةَ أُسرِى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ: جس رات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی مسجد سے اسراء کرایا گیا تو آپ کے پاس تین شخص آئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورہ نجم میں جس معراج کا ذکر ہے وہ دوسر ا معراج ہے۔ورنہ ایک معراج نبوت کے ملتے وقت یا اس کے ساتھ ہی ہو اتھا اور نمازیں اس میں فرض ہو گئی تھیں۔چنانچہ بخاری نے انس سے روایت کیا ہے اور ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں اس روایت کو بیان کیا ہے کہ جَانَهُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ قَبْلَ أَن يُوحَى إِلَيْهِ الح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین فرشتے آئے۔(صحیح البخاری، کتاب التوحید، بَاب قَوْلِهِ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسَى تكلها ، روایت نمبر ۷۵۱۷) اور یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا