صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 905
صحیح البخاری جلد ١٦ ۹۰۵ ۹۷- كتاب التوحيد قَالَ وَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ ہم سے تخفیف فرما۔ جبار نے کہا: محمد ! آپ نے الْحَرَامِ۔ عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت میں ہوں۔ فرمایا: میرے حضور بات نہیں تبدیل کی جائے گی۔ اسی طرح ہو گا جیسا کہ میں نے تم پر اُم الکتاب میں فرض کر دیا ہے۔ فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا بدلہ ہو گا۔ تو نمازیں ام الکتاب میں پچاس ہی ہیں اور تم پر پانچ فرض کی گئی ہیں۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کی طرف لوٹے اور انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کہا ؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے تخفیف کر دی ہے۔ ہر نیکی کے بدلے اس نے ہمیں دس گنا ثواب دیا ہے۔ حضرت موسی نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے تو اس سے بھی کم پر بنی اسرائیل کو ترغیب دے کر منوانا چاہا اور انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اپنے رب کے پاس لوٹو تا کہ تم سے کچھ اور تخفیف کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ ! اللہ کی قسم ! مجھے اپنے رب سے بوجہ اس کے کہ میں اس کے پاس بار بار آیا گیا ہوں شرم محسوس ہوتی ہے۔ حضرت جبریل نے کہا: اب اللہ کا نام لے کر اترو۔ (راوی نے) کہا: آپ جاگ گئے اور آپ مسجد حرام میں ہی تھے۔ أطرافه: ٣٥٧٠، ٤٩٦٤، ٥٦١٠، ٦٥٨١۔ تشريح : مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَم الله مولى لما له تعالی کافرمانا اور لالہ نے موسی سے خوب اچھی طرح کلام کیا تھا۔ الله