صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 69
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۹ ۸۹ - كتاب الإكراه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سلام بھیجیں روح بلالی پر اور سلام بھیجیں روح خباب پر اور سلام بھیجیں روح خبیب پر۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے، زمین و آسمان ٹل جائیں مگر یہ تقدیر نہیں بدل سکتی کہ ہمیشہ ہر حال میں نار بولھبی یقیناً شکست کھائے گی اور نور مصطفوی یقینا کامیاب ہو گا۔کوئی نہیں جو بلالی احد کی آواز کو مٹا سکے۔کوئی پتھر کوئی پہاڑ نہیں جو سینوں پر پڑ کر لا الہ کی آواز کو دبا سکے۔کوئی دکھ اور کوئی غم نہیں، کوئی صدمہ نہیں جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ کی صداقت کی شہادت سے کسی کو باز رکھ سکے۔مبر یہ امر یقینا ہمیشہ ہمیش کے لیے زندہ اور قائم رہے گا۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِينَ مَعَةٌ غالب آنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔مغلوب ہونے کے لیے نہیں بنائے گئے۔“ (افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۲، خطابات طاہر ، جلد ۲ صفحه ۱۵ تا ۱۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھایا اور اس قدر صبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند رہے اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ دُکھ اُٹھاؤ اور ر کرو، ایسا ہی انہوں نے صدق اور صبر دکھایا۔وہ پیروں کے نیچے کچلے گئے، انہوں نے دم نہ مارا۔ان کے بچے اُن کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے۔وہ آگ اور پانی کے ذریعہ سے عذاب دیے گئے مگر وہ شہر کے مقابلہ سے ایسے باز رہے کہ گویاوہ شیر خوار بچے ہیں۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ دنیا میں تمام نبیوں کی اُمتوں میں سے کسی ایک نے بھی باوجو د قدرت انتقام ہونے کے خدا کا حکم سن کر ایسا اپنے تئیں عاجز اور مقابلہ سے دست کش بنا لیا جیسا کہ انہوں نے بنایا؟ کس کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسا گر وہ ہوا ہے جو باوجود بہادری اور جماعت اور قوت بازو اور طاقت مقابلہ اور پائے جانے تمام لوازم مردمی اور مردانگی کے پھر خونخوار دشمن کی ایذاء اور زخم رسانی پر تیرہ برس تک برابر صبر کرتا رہا۔“ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۱۰) وَلَوِ انْقَضَّ أَحد مَا فَعَلْتُمْ بِعُثمانَ كَانَ مَحْفُوفًا أَنْ يَنقَضَ: اور جو تم نے حضرت عثمان سے کیا اگر اس