صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 70
۸۹ - كتاب الإكراه صحیح البخاری جلد ۱۹ سے اُحد گر پڑے تو بجا تھا کہ وہ گر پڑتا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے قبل آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا گیا اور پانی تک اندر جانے سے روک دیا گیا۔آپ کے گھر پتھر پھینکے گئے اور بالآخر گھر پر مفسدوں نے حملہ کر دیا۔گھر کے اندر داخل ہونے پر حضرت عثمان کو قرآن کریم پڑھتے ہوئے پایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اُس رات بصرہ کے لشکر کی مدینہ میں داخل ہو جانے کی یقینی خبر آچکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لئے آخری موقع تھا، ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے۔اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی یخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان کے سامنے جو قرآن دھرا ہوا تھا اُس کو لات مار کر پھینک دیا۔قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان کے پاس آگیا اور آپ کے سر پر سے خون کے قطرات گر کر اُس پر آپڑے۔قرآن کریم کی بے ادبی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقویٰ اور دیانت کا پردہ اس واقعہ سے اچھی طرح فاش ہو گیا۔جس آیت پر آپ کا خون گر اوہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت پر جاکر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اس کے خونی حروف کی جھلک کر دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔وہ آیت یہ تھی : فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة: ۳۸) اللہ تعالیٰ ضرور اُن سے تیر ابدلہ لے گا اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اُس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا چاہا۔پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو روکا اور آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ! یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔اس کے بعد پھر اس نے دوسر اوار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا مگر اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ کی بیوی کی انگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہوگئیں۔پھر اس نے ایک وار حضرت عثمان پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا۔اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیں نکلی شاید بچ جاویں، اُسی وقت جب کہ زخموں کے صدموں سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدت