صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 68
صحيح البخاری جلد ۱۶ YA ۸۹ - كتاب الإكراه سے اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ غصہ سے تمتمانے لگا۔آپ نے فرمایا: دیکھو! تم سے پہلے وہ لوگ بھی گزرے ہیں جن کا گوشت لوہے کے کانٹوں سے نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا اور ایسے بھی تھے جن کے جسم آروں سے چیر دیے گئے لیکن انہوں نے اُف نہ کی۔دیکھو ! خدا اس کام کو ضرور پورا کرے گا جو کام اُس نے میرے سپر د کیا ہے۔یہ تھا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل۔یہی تربیت تھی جو آپ نے اپنے غلاموں کو دی اور یہی رد عمل تھا جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے ظاہر ہو تا رہا۔چنانچہ حضرت خبیب بن عدی کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ جب جان دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور تلوار اُن پر گر کر اُن کا سر تن سے جدا کرنے کو تھی تو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، کوئی واویلا نہیں تھا۔ہاں دو شعر اُن کی زبان پر جاری ہوئے اور ہمیشہ کے لیے اُن کی یاد کو بھی زندہ جاوید کر گئے۔انہوں نے قتل ہونے سے پہلے یہ شعر پڑھے: ما أبالي حِينَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا على أَتِي شِي كَانَ لِلهِ مَضْرعى وذلك فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَ اِنْ يَشَا يُبَارِك عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُمرّع کہ اے کفار ! میں تو اس بات کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ میں جب قتل کیا جاؤں گا تو کس پہلو پر گروں گا۔یعنی میری موت چونکہ خدا کی خاطر ہے اس لیے مجھے تو اتنی بھی پرواہ نہیں ہے کہ جب میر اسر تن سے جد اہو گا تو میں کس کروٹ پر گروں گا۔خدا کی قسم ! یہ سب کچھ خدا کی خاطر ہو رہا ہے اور اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ذرہ ذرہ کو برکتوں سے بھر دے۔یہ تھا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کارڈ عمل اور یہی ان کو تعلیم دی گئی تھی۔پس آج آغاز اسلام کی باتیں کرتے ہوئے ہمیں درود بھیجنا چاہیئے اس محسن اعظم پر جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ معة کس شان کا وہ رسول تھا اور کس شان کے وہ غلام تھے جو آپ کے ساتھ تھے۔اُن کی کیسی اعلیٰ تربیت کی گئی اور انہوں نے تربیت کا کیسا پیارا رنگ پکڑا۔پس آؤ آج کی دعاؤں میں خصوصیت کے ساتھ ہم درود بھیجیں محسن اعظم محمد