صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 901
صحیح البخاری جلد ١٦ ۹۰۱ ۹۷- كتاب التوحيد أَبْوَابِهَا فَنَادَاهُ أَهْلُ السَّمَاءِ مَنْ ذَا سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا آفتابہ فَقَالَ جِبْرِيلُ قَالُوا وَمَنْ مَّعَكَ قَالَ تھا جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے مَعِيَ مُحَمَّدٌ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ قَالَ نَعَمْ آپ کا سینہ اور آپ کے حلق کی رگیں اس سے بھر قَالُوا فَمَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا فَيَسْتَبْشِرُ بِهِ دیں۔ پھر اس کو جوڑ کر بند کر دیا۔ پھر سب سے أَهْلُ السَّمَاءِ لَا يَعْلَمُ أَهْلُ السَّمَاءِ چلے آسمان کی طرف آپ کو ؟ ، آپ کو اٹھا کر لے گئے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو بِمَا يُرِيدُ اللَّهُ بِهِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى اہل آسمان نے ان کو آواز دی: یہ کون ہے؟ انہوں يُعْلِمَهُمْ فَوَجَدَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا نے کہا: جبریل۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ آدَمَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ هَذَا أَبُوكَ اور کون ہے؟ انہوں نے کہا: میرے ساتھ محمد فَسَلَّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان کو بلا بھیجا ہے؟ تو آدَمُ وَقَالَ مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا بَنِي نِعْمَ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا: تو پھر یہ الابْنُ أَنْتَ فَإِذَا هُوَ فِي السَّمَاءِ خوشی سے آئیں اور اپنے لوگوں میں آئیں۔ آسمان الدُّنْيَا بِنَهَرَيْنِ يَطَّرِدَانِ فَقَالَ مَا والے آپ کے آنے سے خوش ہو رہے تھے۔ هَذَانِ النَّهَرَانِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ هَذَانِ آسمان والے نہیں جانتے جب تک کہ اللہ ان کو نہ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ عُنْصُرُهُمَا ثُمَّ مَضَى آگاہ کرے کہ وہ زمین میں محمد صلی علیم کے ذریعہ سے بِهِ فِي السَّمَاءِ فَإِذَا هُوَ بِنَهَرٍ آخر کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ پھر آپ نے پہلے آسمان میں عَلَيْهِ قَصْرٌ مِّنْ لُؤْلُو لُؤْلُو وَزَبَرْ جَدٍ فَضَرَبَ حضرت آدم کو پایا۔ حضرت رت جبریل جبر نے آپ سے يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ قَالَ مَا الترسل کہا: یہ آپ کے باپ ہیں۔ آپ انہیں سلام کریں۔ آپ نے سلام کیا اور حضرت آدم نے آپ کو سلام هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ کا جواب دیا اور کہا: خوشی سے آؤ میرے بیٹے اپنے الَّذِي خَبَأَ لَكَ رَبُّكَ ثُمَّ عَرَجَ إِلَى لوگوں میں آؤ۔ کیا اچھے بیٹے ہو تم ۔ تو آپ نے نچلے السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ لَهُ آسمان میں دو ندیاں بہتی ہوئی دیکھیں۔ آپؐ نے مِثْلَ مَا قَالَتْ لَهُ الْأُولَى مَنْ هَذَا؟ پوچھا: جبریل! یہ دوندیاں کیا ہیں ؟ جبریل"۔ ؟ جبریل نے کہا: قَالَ جِبْرِيلُ قَالُوا وَمَنْ مَّعَكَ قَالَ یہ جوئیل اور فرات ہیں یہ ندیاں ان کی اصل ہیں۔