صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 898
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۹۸ -92 و - كتاب التوحيد خدا تعالیٰ کی طاقتوں کو گرا رہے تھے انہیں خدا نے کہا کہ تم ہماری طاقتوں کا تو اندازہ لگا ہی نہیں سکتے آؤ میں تمہاری اپنی طاقتوں کو ابھارتا ہوں اور تمہیں بتاتا ہوں کہ تم اپنی آواز کو کہاں کہاں تک پہنچا سکتے ہو۔۔۔چنانچہ اس نے وائر لیس ایجاد کروا کے بتادیا کہ جب تمہاری جیسی ذلیل اور حقیر ہستی ساری دنیا کی آوازیں وائرلیس کے ذریعہ سن سکتی اور ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکتی ہے تو کیا وہ خداجو تم کو پیدا کرنے والا ہے وہ تمہاری آوازیں نہیں سن سکتا؟ غرض مَا قَدَرُوا اللهَ حق قدرہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بنیادی غلطی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ انسانی طاقتوں پر قیاس کر کے خدائی طاقتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس طرح شرک جیسے گندے عقیدے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔( تفسیر کبیر ، سورة الحج، زیر آیت وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرِم، جلد ۲ صفحہ ۹۸،۹۷) باب ۳۷ مَاجَاءَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكْلِيمًا (النساء : ١٦٥) * اللہ عزوجل کا فرمانا: اور اللہ نے موسیٰ سے خوب اچھی طرح کلام کیا تھا :٧٥١٥ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۷۵۱۵: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا عُقَيْل نے ہمیں بتایا۔عقیل نے ہم سے بیان کیا۔عقیل عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حمید بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عبدالرحمن نے ہمیں بتایا، حمید نے حضرت النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوہریرہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے آپس میں بحث احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَی کی تو موسیٰ نے کہا: آپ وہی آدم ہیں نا جس نے أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجْتَ ذُرِّيَّتَكَ مِنَ اپنی ذریت کو جنت سے نکال دیا۔آدم نے کہا: الْجَنَّةِ قَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي آپ وہی موسیٰ ہیں جس کو اللہ نے اپنی رسالت اصْطَفَاكَ اللهُ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ ثُمَّ اور اپنے کلام سے برگزیدہ کیا۔پھر آپ ایسی بات