صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 897
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۹۷ -92 ۹۷- كتاب التوحيد تشريح۔كَلَامُ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ : قیامت کے روز ربّ عزو جل کا انبیاء و دیگر لوگوں سے کلام کرنا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں۔انہوں نے خدائی صفات کا کبھی پورا اندازہ نہیں کیا۔اور یہی وجہ اُن کے ٹھوکر کھانے کی ہے۔چنانچہ دیکھ لو جو لوگ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں یا وہ لوگ جو بعض اور ذرائع کو بیچ میں لانا چاہتے ہیں۔ان کے اس عقیدہ کی بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ ان کا دماغ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ ایک ایسی ہستی بھی ہے جو سب دنیا کو دیکھ رہی ہے اور سب لوگوں کی آوازوں کو سن رہی ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ بعض ایسے درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے جن میں خدائی طاقتیں تقسیم ہوں اور جو اپنی اپنی جگہ اُن طاقتوں کو استعمال کر رہے ہوں۔اس دھوکا کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ اپنی طاقتوں کے لحاظ سے کیا۔اور خدائی طاقتوں کا انسانی طاقتوں پر قیاس کر لیا انہوں نے دیکھا کہ انسان جب ایک طرف نگاہ کرتے ہیں تو دوسری طرف کی چیزیں انہیں نظر نہیں آتیں۔پس انہوں نے خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ کی نظر بھی محدود ہے۔پھر جب انسانوں نے دیکھا کہ ہم ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سن سکتے تو خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ بھی ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سن سکتا۔غرض انسانی طاقتوں پر خدائی طاقتوں کا جب انہوں نے قیاس کیا تو انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے بعض شریک مقرر کریں۔اسی خیال کے نتیجے میں بعض فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو کلی علم ہے۔جزئی نہیں یعنی اسے یہ تو پتہ ہے کہ انسان روٹی کھایا کرتا تھا مگر اسے یہ پتہ نہیں کہ زید اس وقت روٹی کھا رہا ہے۔اسے یہ تو علم ہے کہ انسانوں کے گھروں میں بچے پیدا ہوا کرتے ہیں مگر اسے یہ علم نہیں کہ اس وقت زید یا بکر کے گھر میں بچہ پیدا ہو رہا ہے۔اب اس خیال کی بنیاد اسی امر پر ہے کہ انسان اپنی محدود طاقتوں سے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ لگاتا ہے۔مگر آج دیکھو وہ کمزور انسان جو