صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 67
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۷ ۸۹- كتاب الإكراه ایک دفعہ قریش نے اُن کو پکڑ کر اُنہی کی بھٹی کے دیکتے ہوئے کوئلوں پر الٹالٹا دیا اور ایک شخص اُن کی چھاتی پر چڑھ گیا تا کہ کروٹ نہ بدل سکیں۔ چنانچہ وہ کو کلے اُسی طرح جل جل کر اُن کے نیچے ٹھنڈے ہو گئے۔ خباب نے مدتوں کے بعد حضرت عمر سے یہ واقعہ بیان کیا اور اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی جو زخموں کے داغوں سے بالکل سفید تھی۔ خباب کے متعلق یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ مکہ کے ایک رئیس عاص بن وائل نے اُن سے کچھ تلواریں بنوائیں اور جب خباب نے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگا: تم لوگ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ جنت میں انسان کو ہر قسم کی نعمت سونا اور چاندی وغیرہ سب حسب خواہش ملے گی۔ سو تم اپنی تلواروں کی قیمت مجھ سے جنت میں آکر لے لینا کیونکہ واللہ اگر تمہیں جنت میں جانے کی توقع ہے تو مجھے تو بدرجہ اولیٰ ہونی چاہیئے اور یہ کہہ کر قیمت دینے سے انکار کر دیا۔ “ (سیرت خاتم النبیین صلی ال، صفحہ ۱۵۹) نیز آپ نے فرمایا: ایک اور موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوف مع چند دوسرے اصحاب کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے اور کوئی ہماری طرف آنکھ تک نہیں اُٹھا سکتا تھا لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں کمزور اور ناتواں ہو گئے ہیں اور ہم کو ذلیل ہو کر کفار کے مظالم سہنے پڑتے ہیں۔ پس یا رسول اللہ ! آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم ان کفار کا مقابلہ کریں۔ “ آپ نے فرمایا: إني أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا - یعنی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو کا حکم ہے۔ پس میں تم کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ صحابہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول کے سامنے سرتسلیم خم تھا۔ انہوں نے صبر اور برداشت کا وہ نمونہ دکھایا کہ تاریخ اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی الم ، صفحہ ۱۶۴) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت خباب بن ارت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! مسلمانوں کو قریش مکہ کے ہاتھوں اتنی تکالیف ! پہنچی ہیں اتنی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ اب تو حد ہو گئی ہے۔ یا رسول اللہ ! آپ ان پر بد دعا کیوں نہیں کرتے۔ آپؐ نے جب یہ سنا اُس وقت آپ لیٹے ہوئے تھے، جوش