صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 895
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۹۵ ۹۷۔کتاب التوحيد بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ کچھ نہ دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ سوائے اس عمل کے جو اس نے پہلے بھیجا تھا اور قَالَ الْأَعْمَسُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ کچھ نہ دیکھے گا اور وہ سامنے دیکھے گا تو وہ سوائے عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ بِكَلِمَةٍ آگ کے کچھ نہ دیکھے گا جو اس کے منہ کے سامنے ہو گی۔اس لئے آگ سے بچو گو کھجور کے طَيِّبَةٍ ایک ٹکڑے سے ہی۔اعمش نے کہا: اور عمرو بن مرہ نے خیمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے اسی طرح بیان کیا اور انہوں نے اس میں اتنا ہی بڑھایا گو ایک اچھی بات ہی کہہ کر۔أطرافه ١٤١٣، ١٤١٧، ۳٥٩٥، ۶۰۲۳، 15۳۹، 6540، 6563، ٧٤٤٣۔٧٥١٣: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۷۵۱۳: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ سے ، عبیدہ نے قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِّنَ الْيَهُودِ فَقَالَ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔إِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَعَلَ اللهُ انہوں نے کہا: یہودیوں کا ایک عالم آیا اور کہنے لگا: بات یہ ہے کہ جس دن قیامت ہو گی تو اللہ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعِ وَالْأَرَضِينَ عَلَى آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر إِصْبَعِ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعِ اور پانی اورمٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعِ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ثُمَّ کو ایک انگلی پر رکھے گا اور ان کو ملائے گا اور کہے يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ فَلَقَدْ گا کہ میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔میں نے رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہے کہ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِدُهُ تَعَجُبًا آپ کے دانت نظر آئے بوجہ تعجب کے اور اس وَتَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى کی بات سچا سمجھنے کے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے