صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 893
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۹۳ ۹۷- كتاب التوحيد وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لَا نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں بتایا۔ تو حسن نے کہا: إِلَهَ إِلَّا اللهُ۔ بیس برس ہوئے حضرت انس نے مجھ سے بھی بیان کیا تھا جب ان کے تمام ہوش و حواس ٹھکانے پر تھے۔ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ بھول گئے یا انہوں نے ناپسند کیا کہ تم بھروسہ کر بیٹھو گے۔ ہم نے کہا: ابو سعید ! ہمیں بتائیں، تو ہنس پڑے اور کہنے لگے : انسان جلد باز ہی بنایا گیا ہے۔ میں نے یہ ذکر محض اس لئے کیا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ تمہیں بتاؤں۔ حضرت انس نے مجھ سے بھی ویسے ہی بیان کیا جیسے تم سے بیان کیا، کہا: (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر میں چوتھی بار واپس لوٹوں گا اور انہی تعریفوں سے اس کی تعریف کروں گا۔ پھر اس کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا۔ تو کہا جائے گا : محمد ! اپنا سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں کہوں گا: اے میرے رب! مجھے اس کے متعلق بھی اجازت دے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہا تو وہ کہے گا: میری عزت اور میرے جلال اور میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم ہے کہ میں آگ سے ضرور ان کو نکال لوں گا کہ جنہوں نے لا إله إلا الله کہا۔ أطرافه : ٤٤ ، ٤٤٧٦، ٦٥٦٥ ، ٧٤١٠، ٧٤٤٠، ٧٥٠٩، ٧٥١٦۔