صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 892 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 892

صحیح البخاری جلد ١٦ ۸۹۲ ۹۷- كتاب التوحيد بھی کم ، اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيفَةَ ا: محمد ! اپنا سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور فَحَدَّلْنَا بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مانگو تمہیں دیا جائے ئے گا اور سفارش کرو تمہاری قبول فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَأَذِنَ لَنَا فَقُلْنَا کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب ! میری لَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ امت پر رحم کر، میری امت پر رحم کر۔ تو فرمائے گا: جاؤ اور جن کے دل میں رائی کے دانہ کے وزن سے أَخِيكَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ فَقَالَ هِيهْ اس کو بھی آگ سے نکال لو۔ میں چلا جاؤں گا اور فَحَدَّثْنَاهُ بِالْحَدِيثِ فَانْتَهَى إِلَى هَذَا ایسا ہی کروں گا۔ جب ہم حضرت انس کے پاس الْمَوْضِعِ، فَقَالَ هِيهْ فَقُلْنَا لَمْ يَزِدْ لَنَا سے نکلے میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا: اچھا عَلَى هَذَا فَقَالَ لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ ہو اگر ہم حسن (بصری) کے پاس سے بھی ہوتے جَمِيعٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً فَلَا أَدْرِي جائیں اور وہ اس وقت ابو خلیفہ کے مکان میں چھپے أَنَسِيَ أَمْ كَرِهَ أَنْ تَتَّكِلُوا قُلْنَا يَا أَبَا ہوئے تھے اور ہم ان سے وہ بات بیان کریں جو سَعِيدٍ فَحَدِّثْنَاهُ فَضَحِكَ وَقَالَ خُلِقَ حضرت انس بن مالک نے ہم سے بیان کی ہے۔ الْإِنْسَانُ عَجُولًا مَا ذَكَرْتُهُ إِلَّا وَأَنَا چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انکو السلام علیکم کہا۔ أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَكُمْ انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی۔ ہم نے بِهِ قَالَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَحْمَدُهُ ان سے کہا: ابو سعید ا ہم آپ کے بھائی حضرت انس بن مالک کے ہاں سے آپ کے پاس آئے ہیں۔ بِتِلْكَ ثُمَّ أُخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ شفاعت سے متعلق جو بات انہوں نے ہم سے بیان يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَع کی ہے ویسے ہمارے خیال میں بھی کبھی نہ آئی تھی تو ! وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا حسن نے کہا: بھلا بیان تو کرو۔ ہم نے ان سے وہ رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا حدیث بیان کی۔ جب اس آخری مقام پر ختم ہوئی اللَّهُ فَيَقُولُ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي تو حسن نے کہا: بیان کرو۔ ہم نے کہا: حضرت انس ے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ”المحامد“ ہے۔ (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۸ جزء ۱۳ حاشیه صفحه ۵۸۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔