صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 890
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۹۰ -92 و- كتاب التوحيد إِخْوَانُكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ جَاءُوكَ کسی بات کے متعلق ان سے نہ پوچھیو تو ثابت نے يَسْأَلُونَكَ عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ فَقَالَ کہا: ابو حمزہ! یہ آپ کے بھائی ہیں جو اہل بصرہ میں حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ہیں۔آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ سے قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ شفاعت کی حدیث کے متعلق پوچھیں تو انہوں نے النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ فَيَأْتُونَ کہا: محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا جس دن قیامت ہو گی لوگ بیقراری سے آپس میں ایک آدَمَ فَيَقُولُونَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ دوسرے سے لپیٹیں گے۔حضرت آدم کے پاس فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ آئیں گے اور کہیں گے: اپنے رب کے حضور ہمارے بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ فَيَأْتُونَ لئے سفارش کریں تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ نہیں ہوں لیکن تم حضرت ابراہیم کو ملو وہ رحمن عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ الله کے دوست ہیں تو وہ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا گے۔وہ کہیں گے میں اس کا اہل نہیں تم حضرت وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ موسیٰ کو جاملو کیونکہ وہ اللہ کے کلیم ہیں۔یہ سن کر اللهِ وَكَلِمَتُهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ وہ حضرت موسی کے پاس آئیں گے۔وہ کہیں گے لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت عیسی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي کو الو کیونکہ وہ اللہ کی روح اور کلمہ ہیں۔تو وہ حضرت عیسی کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : میں فَيُؤْذَنُ لِي وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ فَأَقُولُ أَنَا لَهَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي اس کا اہل نہیں ہوں۔البتہ تم محمد صل اللہ علیہ وسلم کو جاملو اور وہ میرے پاس آئیں گے۔میں کہوں بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ گا: میں اس کا اہل ہوں اور میں اپنے رب کے الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا اور مجھے مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ اجازت دی جائے گی اور وہ مجھے ایسی تعریفیں وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا الہام کرے گا کہ جس سے میں اس کی حمد کروں رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقُ فَأَخْرِجْ کا جو ابھی میرے ذہن میں نہیں آئیں غرض میں