صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 888
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۸۸ ۹۷- كتاب التوحيد بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ (بخاری) مصری جلد رابع کتاب التوحید ) یعنی ہر بدی کی سزا اُس کے برابر ہے اور ہر بدی جس کا خیال چھوڑ دیا جائے اس کے بدلہ میں نیکی لکھی جاتی ہے اور ہر نیکی جس کا انسان خیال کرے خواہ عمل نہ کرے اس کے بدلہ میں نیکی ہے اور ہر نیکی کا بدلہ دس سے سات سو گئے تک ہے۔ قرآن کریم میں بھی نیکی کا دس گنے سے زیادہ ثواب دیئے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مَائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) یعنی جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کے اس فعل کی حالت اُس دانہ کی حالت کی مشابہ ہے جو سات بالیں اُگائے اور ہر بال میں سو دانہ ہو اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت والا ہے اور بہت جاننے والا ہے۔ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ بعض نیکیوں کا بدلہ سات سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ چونکہ انسان میں کچھ نیکی بھی پائی جاتی ہے اس لئے نیکیوں کا شمار اگر اس حدیث اور قرآن کریم کی آیت کے مطابق کیا جائے تو عقل اس بات کو جائز قرار نہیں دیتی کہ کوئی انسان دائمی طور پر نجات سے محروم رہ جائے۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ النباء، زير آيت البثين فِيهَا احْقابًا ، جلد ۸، صفحه ۳۹،۳۸) باب ٣٦ : كَلَامُ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ قیامت کے روز رب عز و جل کا انبیاء و دیگر لوگوں سے کلام کرنا ٧٥٠٩ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ ۷۵۰۹: یوسف بن راشد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا احمد بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔ ابو بکر بن عیاش أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ نے ہم سے بیان کیا۔ ابو بکر نے حمید سے روایت