صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 887 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 887

صحیح البخاری جلد ۱۶ AAZ -92 ۹۷ - كتاب التوحيد یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے سوا اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے الفاظ سے نئے نئے مضامین نکلتے چلے آئیں۔صرف قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے مطالب کبھی ختم نہیں ہوتے۔رات دن قرآن کریم کو پڑھو، قرآن کے حقائق کبھی ختم نہ ہونگے۔اس کی حکمتیں نکلتی چلی آتی ہیں اور ہر لفظ پر حکمت معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔قرآن کریم واقع میں ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو تا۔اس کی جگہ دوسری کتب میں یہ بات نہیں۔“ (فضائل القرآن نمبر ۴، انوار العلوم جلد ۱۲ صفحه ۴۱۹ تا۴۲۳) وَتَخلُوفُ قَمِ الصَّائِمِ أَطيبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ: روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کو روزے دار کے منہ کی بو جو ہے، نہ کھانے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہو جاتی ہے، صرف اس لئے پسند ہے کہ میرے بندے نے میری خاطر اپنے او پر یہ پابندی لگائی ہوئی ہے اور میری عبادت میں مشغول ہے تو خدا تعالیٰ ایسے روزہ داروں کی بہت قدر کرتا ہے۔اور ایسے لوگوں پر اپنی رحمتوں اور فضلوں کی ہوائیں چلاتا ہے۔اس دنیا میں بھی انہیں اپنی پناہ میں رکھتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اپنی جنتوں کا وارث بناتا ہے۔“ خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء، جلد۱، صفحه ۴۳۹) زیر باب روایت ۷۵۰۱ کے الفاظ إِذَا أَرَادَ عَبْدِى أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةٌ فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا : جب میرابندہ بُرا کام کرنے کا ارادہ کرے تو جب تک وہ اسے کرتا نہیں تو اس کے ذمہ وہ گناہ نہ لکھو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔۔۔”حدیث میں آتا ہے اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ إِذَا أَرَادَ عَبْدِى أَنْ يَعْمَلَ سَيْئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا فَإِنْ عمِلَهَا فَاكْتُبُوا هَا مِثْلِهَا وَإِن تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِى فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَلَةٌ وَإِذَا أَرَادَ أن يَعْمَلُ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلُهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ