صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 886 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 886

صحیح البخاری جلد ۱۶ MAY ۹۷۔کتاب التوحيد اسے ہم کتاب اللہ تو کہہ سکتے ہیں، لیکن ہم اسے کلام اللہ نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ وہ سب کی سب کلام اللہ نہیں بلکہ اس میں ایک حد تک کلام بشر بھی ہے۔گو مضمون سب کا سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس وجہ سے وہ کتاب کتاب اللہ ہے۔اب اس فرق کو مد نظر رکھ کر دیکھ لو۔دنیا کی کوئی کتاب خواہ کسی قوم کی ہو اور کس قدر ہی شد و مد کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہو کلام اللہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ایک بھی ایسی کتاب نہیں نہ موجودہ صورت میں اور نہ اس صورت میں جس طرح کسی نبی نے دی تھی کہ اس کے تمام کے تمام الفاظ خدا تعالیٰ کے ہوں۔اس میں بعض الفاظ خدا تعالیٰ کے ہونگے بعض نظارے ہونگے اور بعض مفہوم بیان کئے گئے ہونگے۔یہ فضیلت صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی حاصل ہے کہ ساری کی ساری شریعت آپ کو وحی کے الفاظ میں عطا ہوئی۔باقی سب انبیاء کی کتب میں کچھ کلام الہی تھا۔کچھ نظارے تھے اور کچھ مفہوم جسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔اگر وہ نظاروں اور مفہوم کے حصہ کو علیحدہ کر دیتے تو ان کی کتابیں نا مکمل ہو جاتیں کیونکہ ان کا سارا دین کلام اللہ میں محصور نہیں۔کچھ رویا اور کشوف ہیں اور کچھ وحی خفی کے ذریعہ سے تھا۔اگر وہ کلام اللہ کو الگ کرتے تو ان کا دین ناقص رہ جاتا۔برخلاف اس کے قرآن کریم میں سب دین آگیا ہے اور کلام اللہ میں ہی سب دین محصور ہے۔پس قرآن کے سوا اور کسی نبی کی کتاب کا نام کلام اللہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ نام صرف قرآن کریم کا ہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اکمل بنانا تھا اسلام کو اکمل دین اور قرآن کو آخری کلام بنانا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اسے ایسا محفوظ بنا تا کہ کوئی مطلب فوت نہ ہو۔اور اس کی ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ عالم الغیب خدا کے الفاظ میں سب کچھ بیان ہو۔رویا اور کشوف میں جھگڑے اور اختلاف پڑ جاتے ہیں۔اس لئے شریعت اسلامیہ کو خد اتعالیٰ نے اپنے الفاظ میں اتار کر اس کا نام کلام اللہ رکھا اور کہہ دیا کہ اس کے سب الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔