صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 885 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 885

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۸۵ ۹۷۔کتاب التوحيد لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔یہ الفاظ کان میں آواز کے طور پر پڑے اور زبان پر جاری ہوئے۔اس آیت کا اہل، ح، م، داور ان کے اعراب سب خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے ہیں۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک مضمون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ڈال دیا۔بلکہ ہر حرف اور ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔یہ وحی سب انبیاء پر نازل ہوئی۔(۲) دوسری وحی رؤیا اور کشوف ہیں۔یہ الفاظ میں نہیں بلکہ نظاروں میں ہوتی ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اُحد کی جنگ میں تشریف لے جانے لگے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے۔اور دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی جارہی ہے۔آپ نے فرمایا: تلوار کی شکستگی سے مراد فتح ہے جو مشتبہ ہوگی اور گائے کے ذبح ہونے سے مراد یہ ہے کہ کچھ احباب شہید ہونگے۔یہ وحی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی مگر فرق یہ ہے کہ پہلی وحی الفاظ میں تھی اور یہ نظارہ میں ہے۔اور نظارہ بیان کرتے وقت اپنے الفاظ بیان کرنے پڑتے ہیں۔بالکل ممکن ہے کہ اس بیان میں کچھ اور پچ پہنچ ہو جائے۔(۳) تیسری وحی خفی ہوتی ہے جو الفاظ میں نازل نہیں ہوتی، نہ نظارہ دکھایا جاتا ہے بلکہ تفہیم اور انکشاف کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی دل میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ تمہارا خیال نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے اور الفاظ اس کو خود بنانے پڑتے ہیں۔یہ سب سے ادنی درجہ کی وحی ہے۔اس سے بڑھ کر رویا اور کشف کی وحی ہوتی ہے۔مگر اس میں تاویل کی ضرورت ہوتی ہے اور تاویل میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔لیکن پہلی وحی جو الفاظ میں ہوتی ہے اس میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہو تا۔یہ سب سے اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔اب اگر ایک نبی اپنی تمام وحی کو ایک کتاب میں جمع کر دے جس میں وحی کلام بھی ہو اور وحی کشف و رویا بھی ہو اور وحی خفی بھی نبی کے اپنے الفاظ میں ہو تو