صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 66 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 66

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶ ۸۹ - كتاب الإكراه دِينِهِ وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں اس کے گوشت اور الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ ہڈی تک چلائی جاتیں مگر یہ بات اس کو اپنے دین لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ وَالذِّنْبَ عَلَى غَنَمِهِ سے نہ روکتی۔اللہ کی قسم ! یہ سلسلہ ضرور پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ یہ حالت ہو گی کہ سوار صنعاء سے چل کر حضر موت پہنچے گا، کسی سے نہیں ڈرے گا مگر اللہ سے اور اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے سے مگر بات یہ ہے کہ تم جلدی کرتے ہو۔وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ۔أطرافه: ٣٦١٢، ٣٨٥٢- ريح : مَنِ اخْتَارَ الطَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ: جس نے کفر کے بالمقابل مار پیٹ اور قتل اور ذلت کو پسند کیا۔امام بخاری زیر ابواب روایات سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب عناوین ابواب سے دیتے ہیں۔باب ہذا کا عنوان گزشتہ بحث کا حل ہے کہ کمزور لوگ جن سے مجبور خلاف اسلام اظہار ہو جائے ان مجبوروں اور بے کسوں کو اسلام کا چہرہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسلام میں خدا اور اس کے رسول پر ایمان کی خاطر قربانیاں کرنے والوں کی ایک کہکشاں ہے جس کا ہر ستارہ اپنے نور اور روشنی سے اسلام کے چہرے کو منور کر رہا ہے۔امام بخاری بطور مثال زیر باب چند اصحاب صدق وصفا کے نمونے پیش کر کے اسلام کے حسین چہرہ کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ان وفاشعاروں میں سے ایک نام حضرت سعید بن زید کا ہے نیز بعض دیگر صحابہ کا ذکر ذیل میں پیش ہے۔حضرت سعید بن زید کہتے تھے۔میں نے اپنے تئیں ایسی حالت میں بھی دیکھا ہے کہ حضرت عمر نے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے باندھ دیا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سعید بن زیڈ جو حضرت عمرؓ کے بہنوئی تھے ، بنو عدی سے تھے اور اپنے حلقہ میں معزز تھے لیکن جب عمر بن خطاب کو ان کے اسلام کا علم ہوا تو وہ انہیں گرا کر اُن کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور اسی کش مکش میں اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔“ آپ نے فرمایا: (سیرت خاتم النبيين سلام ، صفحہ ۱۵۸) خباب بن الارت بھی اب غلام نہ تھے بلکہ آزاد تھے اور لوہار کا کام کرتے تھے مگر ل صنعاء یمن کا ایک کنارہ ہے جبکہ حضر موت دوسرا کنارہ۔ان دونوں شہروں کے درمیان تقریباً ۵۷۸ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔(www۔distancefromto۔net)