صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 884 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 884

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۸۴ ۹۷ - كتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” قرآن میں کلام اللہ کالفظ تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ قرآن کریم کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔کسی اور کتاب کے متعلق نہیں۔اس لئے عقلاً یہی کہا جائے گا کہ قرآن ہی کلام اللہ ہے۔اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم بلا دلیل یہ خیال کریں کہ قرآن کریم کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام کلام اللہ نہیں رکھا گیا۔پھر اس کو ہم کلام اللہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔خصوصاً جب کہ میں آئندہ ثابت کروں گا کہ تاریخاً بھی ان میں سے کوئی کتاب کلام اللہ نہیں۔قرآن کریم میں انبیاء کو کلمہ کہا گیا ہے۔الہامات کو کلمات کہا گیا ہے۔بلکہ کلمات اللہ بھی کہا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ گلم اللهُ مُوسى تَكْلِيمًا (النساء: ۱۶۵) موسیٰ سے خدا نے خوب اچھی طرح کلام کیا۔لیکن باوجود اس کے حضرت موسیٰ کی کتاب جس کا بہت سی جگہ قرآن کریم میں ذکر آیا ہے، اسے کلام اللہ نہیں کہا گیا۔جیسا کہ فرمایا: نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ كِتَبَ اللهِ وَرَاء ظُهُورِهِمْ كَانَهُمْ لا يَعْلَمُونَ (البقرة : ۱۰۲ ) یعنی وہ لوگ جن کو کتاب اللہ دی گئی تھی انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا گویا کہ انہیں علم ہی نہیں۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جاسکتا ہے۔لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جا سکتا۔دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے۔اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجود ہے مگر دوسر الفظ کلام اللہ صرف قرآن کیلئے استعمال کیا گیا ہے، کسی اور کے لئے نہیں۔یہ فرق ہے اور یہ بغیر حکمت کے نہیں۔اس فرق کو سمجھنے کیلئے یا در کھنا چاہئے کہ انبیاء کی وحی کئی قسم کی ہوتی ہے۔(1) ایک وہ وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں کانوں میں پڑتی ہے اور زبان پر جاری ہوتی ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا: الحمدُ