صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 883
صحیح البخاری جلد ١٦ ۸۸۳ ۹۷- كتاب التوحيد وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا ۔ وہی شخص کھڑا تھا۔ اللہ نے پوچھا: اے میرے بندے! یہ جو تم نے کیا ہے اس کے کرنے پر تمہیں کس نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے یا (کہا:) گھبراہٹ نے جو تیرے ڈر سے تھی۔ (راوی نے) کہا: اس پر جلد ہی اللہ نے اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کی تلافی کی اور دوسری بار (راوی نے) کہا: اس بات کے سوا اور کسی بات نے بھی اس کے گناہوں کی تلافی نہ کی۔ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا عُثْمَانَ فَقَالَ سَمِعْتُ (سلیمان نے کہا: ) میں نے ابو عثمان سے یہ حدیث هَذَا مِنْ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ سلمان سے سنا أَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ۔ مگر انہوں نے اس میں اتنا بڑھایا: سمندر میں میری حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ وَقَالَ لَمْ راکھ اڑا دین یا کچھ ایسا ہی انہوں نے بیان کیا۔ موسیٰ يَبْتَثِرْ وَقَالَ لِي خَلِيفَةٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں وَقَالَ لَمْ يَبْتَئِزْ فَسَّرَهُ قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ۔ نے لَمْ يَنتثر کہا (یعنی اس نے آگے نہیں بھیجا ) أطرافه: ٣٤٧٨، ٦٤٨١- اور خلیفہ نے مجھ سے کہا: معتمر نے ہم سے بیان کیا اور کہا: لَمْ يَبْتَيْر ۔ قتادہ نے اس کے یہ معنی کئے کہ ذخیرہ نہیں کیا۔ وہ تشريح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى يُرِيدُونَ أَنْ يُبدلوا علم اللہ اللہتعالی کا فرمانا چاہیں گے کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں۔ علامہ ابن بطال بیان کرتے ہیں کہ اس عنوانِ باب اور اس کی ذیل کی احادیث سے امام بخاری کا ارادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ایک ایسی صفت ہے جو اس کے ساتھ ہی قائم ہے اور یہ کہ وہ ہمیشہ سے کلام کرنے والا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری کی غرض یہ بتانا بھی ہے کہ کلام اللہ محض قرآن کریم سے مختص نہیں اور یہ کہ اس کی ایک سے زیادہ قسمیں ہیں اور زیر باب روایات میں اللہ تعالیٰ کے مختلف اقوال گویا اسی امر کی وضاحت میں ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۵۷۸)