صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 880
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۸۰ ۹۷ - كتاب التوحيد أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مَاتَ فَحَرَقُوهُ وَاذْرُوا ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، کہا کہ جب وہ مر جائے تو اس کو جلا دینا اور اس کی نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی سمندر میں اڑا کر فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ بکھیر دینا۔اللہ کی قسم اگر اللہ نے اس پر قابو پالیا عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ تو وہ ضرور اس کو ایسی سزا دے گا کہ تمام جہانوں فَأَمَرَ اللهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ میں کسی کو بھی ایسی سزا نہیں دے گا۔چنانچہ اللہ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ؟ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے جو ذرات اس میں قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ تھے ان کو اکٹھا کیا اور خشکی کو حکم دیا تو اس نے بھی جو ذرات اس میں تھے ان کو اکٹھا کیا۔پھر اللہ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر لَهُ۔سے اور تو خوب جانتا ہے۔اللہ نے پردہ پوشی فرما کر اس سے در گزر کر دیا۔طرفه: ٣٤٨١۔٧٥٠٧: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ۷۵۰۷: احمد بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ بن عاصم نے ہمیں بتایا۔ہمام نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ که اسحاق بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ کہا:) میں نے عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے سنا۔(عبد الرحمن نے) کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ سے سنا۔(حضرت ابو ہریرہ نے) کہا: میں نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدًا صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا: ایک أَصَابَ ذَنْبًا وَرُبَّمَا قَالَ أَذْنَبَ ذَنْبًا بندے نے گناہ کیا اور کبھی (حضرت ابوہریرہ فَقَالَ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا وَرُبَّمَا قَالَ نے یوں کہا: أَذْنَبَ ذَنْبًا۔تو وہ شخص کہنے لگا: