صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 872
صحیح البخاری جلد ۱۶ Azr ۹۷ - كتاب التوحيد باب ٣٥ ٢ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلمَ اللهِ (الفتح: ١٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: وہ چاہیں گے کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں إِنَّهُ لَقَولُ فَضْلُ ( الطارق: ١٤) حَقٌّ وَ إِنَّهُ لَقَولُ فَصل کے معنی ہیں: یقین یہ سچا قول ہے۔مَا هُوَ بِالْهَزْلِ ( الطارق : ١٥) بِاللَّعِبِ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ کے معنی ہیں: یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔٧٤٩١: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۷۴۹۱: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ہمیں بتایا۔زہری نے ہم سے بیان کیا۔زہری نے الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سعيد بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الله سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تَعَالَى يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ دیتا ہے کہ وہ زمانہ کو بُرا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں۔میرے ہی ہاتھ میں یہ سارا سلسلہ ہے وَالنَّهَارَ۔أطرافه: ٤٨٢٦، ٦١٨١ - رات اور دن کو میں ہی التا پلٹتا ہوں۔٧٤٩٢: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۴۹۲: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا۔(کہا: ) اعمش الْأَعْمَسُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو صالح سے ، ابو صالح عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے قَالَ يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ فرمایا: الله عزوجل فرماتا ہے: روزہ میرے لئے وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔وہ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ (روزه دار) اپنی خواہش اور اپنا کھانا اور اپنا پینا يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ میری خاطر چھوڑتا ہے اور روزہ ایک سپر ہوتا ہے وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ اور روزہ دار کو دو خوشیاں ہوتی ہیں۔ایک خوشی