صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 871 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 871

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ALI ۹۷ - كتاب التوحيد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر تم اس رات مر گئے تو تم فطرت پر مرو گے۔آپ نے اس سے یہ سمجھایا ہے کہ انسان کی فطرت پاک ہے اور باہر کے عارضی حالات اس کو مکدر کر دیتے ہیں۔جیسا کہ اس بارے میں آپ کا ارشاد نہایت واضح الفاظ میں آگے بھی آئے گا اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی فطرت کو دعا سے اور دیگر وسائل سے پاک کرتار ہے اور اسلامی وضو بھی ایک ذریعہ ہے۔اس فطرت کے ظاہر و باطن کو پاک کرنے کا۔کیونکہ ظاہری پاکیزگی بھی اپنا اثر باطن پر کم و بیش ڈالتی ہے۔جیسے ظاہر کی گندگی نفس میں گندا اثر و گند امیلان پیدا کرتی ہے۔پس تمام ایسے مسائل جن سے فطرت کراہت کرتی ہو ؛ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا نتیجہ نہیں اور وَنَبِيَّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کا جملہ دو مقصد ادا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک تعلق باللہ بحیثیت نبوت کے اور آپ کا دوسرا تعلق بنی نوع انسان کے ساتھ بحیثیت رسالت کے۔دونوں تعلقات کو آپ نے کامل طور پر نبھایا ہے۔گندگی میں لتھڑی ہوئی انسانیت کو پاک وصاف کر کے اس کو اللہ تعالیٰ سے ملانے کا بیڑا آپ نے اُٹھایا تھا۔آپ کی رسالت کا یہی مقصد اعلیٰ ہے۔۔۔اس بارے میں محمد رسول اللہ لی ایم کی خالص تعلیم اور آپ کے پاک نمونے کو مد نظر رکھ کر ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ نے رسالت کے اس حق کو پورے طور پر ادا کر دیا ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ سے ارشاد فرمایا: يَاتِهَا المُدَّثِرُه قُم فَانْذِرُه وَ رَبَّكَ فَكَبْرُه وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُه (المدثر : ۲ تا ۶) اسے کپڑا اوڑھنے والے ! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر۔اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے، تو (انہیں) بہت پاک کر۔اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیہ الگ رہ - اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ “ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ الوُضُوءِ ، بَاب فَضْلِ مَن بَات عَلَى الوُضُوء، جلد ا، صفحہ ۳۳۲)