صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 870 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 870

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔۸۷۰ ۹۷ - كتاب التوحيد یہ کلام خدا تعالیٰ کے علم پر مشتمل ہے۔اور اس میں ایسے امور بیان ہوئے ہیں جنہیں انسان دریافت نہیں کر سکتا۔تبھی تو ہر انسان اس کی مثل لانے سے قاصر ہے۔دوسرے اس سے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ خدا ایک ہی ہے۔کیونکہ ایک سے زائد خداہوں تو جب انہیں بھی قرآن کریم کی مثل پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے تو کیوں نہ وہ ایک ایسا ہی کلام پیش کر کے اسے جھوٹا ثابت کریں۔سب طرف سے خاموشی کا ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ خدا ایک ہی ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں۔“ (تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۱۶۲) يَتَنَزِّلُ الْآمُرُ۔۔بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْأَرْضِ السَّابِعَةِ: يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ سے مراد یہ ہے کہ وہ امر جو ساتویں آسمان اور ساتویں زمین کے درمیان اترتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور سات زمینوں سے مراد زمین کی آبادی کے سات طبقے ہیں جو نسبتی طور پر بعض بعض کے تحت واقع ہیں اور کچھ بے جانہ ہو گا کہ اگر ہم دوسرے لفظوں میں ان طبقات سبعہ کو ہفت اقلیم کے نام سے موسوم کر دیں لیکن ناظرین اس دھوکہ میں نہ پڑیں کہ جو کچھ ہفت اقلیم کی تقسیم ان یونانی علوم کی رو سے ہو چکی ہے جس کو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حکماء اسلام نے یونانی کتب سے لیا تھا وہ بکلی صحیح اور کامل ہے کیونکہ اس جگہ تقسیم سے مراد ہماری ایک صحیح تقسیم مراد ہے جس سے کوئی معمورہ باہر نہ رہے اور زمین کی ہر ایک جزو کسی حصہ میں داخل ہو جائے ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اب تک یہ صحیح اور کامل تقسیم معرض ظہور میں بھی آئی یا نہیں بلکہ صرف یہ غرض ہے کہ جو خیال اکثر انسانوں کا اس طرف رجوع کر گیا ہے کہ زمین کو سات حصہ پر تقسیم کیا جائے۔یہ خیال بھی گویا ایک الہامی تحریک تھی جو الہی تقسیم کے لئے بطور شاہد ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، حاشیه در حاشیه صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۰) فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ: اگر تم اس رات مر جاؤ تو فطرت پر مرو گے۔