صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 869
صحیح البخاری جلد ۱۶ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔A19 ۹۷- كتاب التوحيد بیان کیا کہ ابن ابی خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ) میں نے حضرت عبد اللہ سے سنا۔(انہوں نے کہا: ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔أطرافه: ۲۹۳۳، ٢٩٦٥، ٣٠٢٥، ١١٥، ٦٣٩٢۔٧٤٩٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ هُشَيْمٍ ۷۴۹۰ مدد نے ہم سے بیان کیا۔مسدد نے عَنْ أَبِي بِشْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ہشیم سے، ہشیم نے ابو بشر سے ، ابو بشر نے سعید عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا الله عنہما سے روایت کی۔یعنی تو اپنی نماز بلند آواز (بنی اسرائیل: ۱۱۱) قَالَ أُنْزِلَتْ سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے۔(انہوں وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نسبت) فرمایا کہ یہ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ آیت اُس وقت نازل کی گئی جب رسول اللہ صلی وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر رہتے تھے۔سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ فَسَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى جب آپ کی آواز بلند ہوتی، مشرکین سنتے تو وہ قرآن کو بُرا بھلا کہتے اور اس ذات کو بھی جس نے یہ نازل کیا اور اس کو بھی جو لے کر آیا۔اس لئے (بنی اسرائیل: ۱۱۱) لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ وَلَا تُخَافِتْ تُخَافِتْ بِهَا۔یعنی اپنی قراءت کو اتنا اونچا نہ کر بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ که مشرک سن پائیں، اور اپنے ساتھیوں سے آواز وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا أَسْمِعْهُمْ وَلَا اتنی دھیمی نہ کر کہ تو ان کو سنا نہ سکے اور اس کی تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ۔در میانی راہ اختیار کر۔اور اونچانہ پڑھ کہ وہ تم سے قرآن لے لیں۔أطرافه: ٤٧٢٢، ٧٥٢٥، ٧٥٤٧۔ریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اَنْزَلَهُ بِعِنُهِ وَالْمَلَيكَةُ يَشْهَدُونَ اللہ تعال کا یہ فرمانا اس نے اسے اپنے علم پر مشتمل کر کے اُنتارا ہے اور ملائکہ (بھی) گواہی دیتے ہیں۔