صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 868
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۶۸ ۹۷- كتاب التوحيد يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ نے فرمایا: اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر آرام اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ کرنے لگو تو یہ کہو: اے اللہ ! میں نے اپنے آپ کو وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ تیرے سپرد کیا اور اپنی توجہ تیری طرف کر دی وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور اپنی پیٹھ تجھ پر ہی إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا اُمید کرتے ہوئے اور تجھ سے ہی خوف کرتے إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ہوئے تجھ سے ہی ٹیک دی۔ کوئی جائے پناہ نہیں وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ اور بجز تیرے کہیں نجات کی جگہ نہیں۔ میں اس فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اُتاری اور تیرے اس أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ أَجْرًا۔ أطرافه: ٢٤٧، ٦٣١١، 6313، 6315- نبی کو مان لیا جو تو نے بھیجا۔ پھر اگر تم اس رات مر جاؤ تو فطرت پر مرو گے اور اگر تم صبح کرو تو اجر پاؤ گے۔ ٧٤٨٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۷۴۸۹ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سفيان نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے اسماعیل بن ابی خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ خالد سے ، اسماعیل نے حضرت عبداللہ بن ابی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اولی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں فرمایا: سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اے اللہ ! قرآن مجید کے نازل کرنے والے، وَزَلْزِلْهُمْ۔ زَادَ الْحُمَيْدِيُّ {حَدَّثَنَا حساب جلد لینے والے، ان گروہوں کو بھگا دے سُفْيَانُ } حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔ حمیدی نے اتنا اور سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ بڑھایا، (کہا: ) سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”حَدَّثَنَا سُفْيَانُ“ ہے۔ (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۵۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔