صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 867 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 867

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۶۷ ۹۷ - كتاب التوحيد اور قول میں اور فعل میں غرض ہماری تمام مخلوقیت کے لوازم میں کام کرتی ہے مگر وہ قیومیت بوجہ ہمارے محجوب بانفسنا ہونے کے براہ راست ہم پر نازل نہیں ہوتی کیونکہ ہم میں اور اس ذات الطف اللطائف اور اعلیٰ اور اغنی اور نور الانور میں کوئی مناسبت درمیان نہیں کیونکہ ہر ایک چیز ہم میں سے خواہ وہ جاندار ہے یا بے جان مجوب بنفسہ اور ساحت قدسیہ تنزہ سے بہت دور ہے اس لئے خدا تعالیٰ میں اور ہم میں ملائک کا وجود اسی طرح ضروری ہوا جیسا کہ نفس ناطقہ اور بدن انسان میں قوائے روحانیہ اور حسیہ کا توسط ضروری ٹھہرا، کیونکہ نفس ناطقہ نہایت تجرد اور لطافت میں تھا اور بدن انسان محجوب بنفسہ اور کثافت اور ظلمت میں پڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان میں قوی روحانیہ اور حسیہ کو ذو جہتین پیدا کیا تاوہ قومی نفس ناطقہ سے فیضان قبول کر کے تمام جسم کو اس سے متادب اور مہذب کریں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، حاشیه صفحه ۱۶۹ تا۱۷۳) بَاب ٣٤ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَبِكَةُ يشهدون (النساء : ١٦٧) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی اس نے اسے اپنے علم پر مشتمل کر کے اُتارا ہے اور ملائکہ (بھی) گواہی دیتے ہیں قَالَ مُجَاهِدٌ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ مجاہد نے کہا: يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ سے مراد یہ ہے (الطلاق: ۱۳) بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ کہ وہ امر جو ساتویں آسمان اور ساتویں زمین کے درمیان اترتا ہے۔وَالْأَرْضِ السَّابِعَةِ۔٧٤٨٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۴۸۸: مد د نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالا حوص أَبُو الْأَحْوَص حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ نے ہمیں بتایا۔ابو اسحاق جمدانی نے ہم سے الْهَمْدَانِيُّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ بیان کیا۔ابو اسحاق نے حضرت براء بن عازب قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الی یوم