صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 866 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 866

صحیح البخاری جلد ۱۶ AYY ۹۷- كتاب التوحيد ہے کہ عالم دنیاوی میں اس قسم کی تحریک شروع ہو جائے جب ملائکہ کو آدم کی فرمانبرداری کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تو اس کا بھی یہی مطلب تھا ملائکہ تو پہلے اطب تھے لیکن حکم سب دُنیا کے لئے تھا پس جس نے اس حکم کا انکار کیا نا فرمان ٹھہرا۔(تفسیر کبیر، سورة البقرة، زير آيت وَاذْ قُلْنَا البنية اسْجُدُوا جلد اول صفحه ۳۲۸٬۳۲۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ملائک ایسے فنا فی طاعت اللہ ہیں کہ اپنا ارادہ اور فیشن اور توجہ اور اپنے ذاتی قوی یعنی یہ کہ اپنے نفس سے کسی پر مہربان ہونا یا اس سے ناراض ہو جانا اور اپنے نفس سے ایک بات کو چاہنا یا اس سے کراہت کرنا کچھ بھی نہیں رکھتے بلکہ بکلی جوارح الحق کی طرح ہیں خدا تعالیٰ کے تمام ارادے اول انہیں کے مرایا صافیہ میں منعکس ہوتے ہیں اور پھر ان کے توسط سے کل مخلوقات میں پھیلتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ بوجہ اپنے تقدس تام کے نہایت تجرد اور تنزہ میں ہے اس لئے وہ چیزیں جو انانیت اور ہستی مجو بہ کی کثافت سے خالی نہیں اور مجوب بانفسہا ہیں اس مبدء فیض سے کچھ مناسبت نہیں رکھتیں اور اسی وجہ سے ایسی چیزوں کی ضرورت پڑی جو من وجہ خدا تعالیٰ سے مناسبت رکھتی ہوں اور من وجہ اس کی مخلوق سے تا اس طرف فیضان حاصل کریں اور اس طرف پہنچادیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود اور قیام اور حرکت اور سکون اور اپنے تغیرات ظاہری اور باطنی اور اپنے ہر یک خاصہ کے اظہار اور اپنے ہر یک عرض کے اخذ یا ترک میں مستقل بالذات نہیں بلکہ اس ایک ہی جی و قیوم کے سہارے سے یہ تمام کام مخلوق کے چلتے ہیں اور بظاہر اگرچہ یہی نظر آتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں کسی غیبی مدد کے محتاج نہیں جب چاہیں حرکت کر سکتے ہیں اور جب چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور جب چاہیں بول سکتے ہیں اور جب چاہیں چپ کر سکتے ہیں۔لیکن ایک عارفانہ نظر کے ساتھ ضرور کھل جائے گا کہ ہم اپنی ان تمام حرکات و سکنات اور سب کاموں میں غیبی مدد کے ضرور محتاج ہیں اور خدا تعالیٰ کی قیومیت ہمارے نطفہ میں ہمارے علقہ میں ہمارے مضغہ میں ہمارے جنین میں اور ہماری ہر یک حرکت میں اور سکون میں