صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 865
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۶۵ ۹۷- كتاب التوحيد وجود ہیں اور مادی عالم کی پہلی کڑیاں اور اس کے مدیر ہیں اور ان کا وجود درباریوں کے طور پر نہیں ہے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کارخانہ عالم کو چلانے کے لئے مختلف اسباب پیدا کئے ہیں اسی طرح انہیں کا ئنات عالم کے تغیرات کے لئے پہلی علتیں اور ابتدائی اسباب بنایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے بنائے ہوئے قواعد کے ماتحت دنیا میں تغیرات پیدا کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کی تدبیر سے یہ کارخانہ عالم صحیح طور پر مقررہ قوانین کے مطابق چلتا جاتا ہے بیشک بوجہ ان کے نظر نہ آنے کے تدبر سے کام نہ لینے والے لوگ ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں لیکن یہ انکار ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض جاہل قانون قدرت کے بار یک اسباب کو نہ جاننے کی وجہ سے ان کا انکار کر دیتے ہیں۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ جلد اول، صفحه ۳۱۰) آپ مزید فرماتے ہیں: ملائکہ اس نظام عالم کے مدیر ہیں چنانچہ قرآن کریم میں انہیں مختلف امور کی پہلی کڑی اور سبب اولی بتایا گیا ہے اور سورہ نازعات میں ان کی نسبت آتا ہے فَالْبُدَ بِرَاتِ امْران کے ہم شہادت کے طور پر ان ارواح کو پیش کرتے ہیں جو کارخانہ عالم کو چلاتی ہیں پس جب ملائکہ کارخانہ عالم کو چلانے والے اور پہلی علت ہیں تو جو انہیں دیا جائیگا وہ ان کے لئے ہی نہ ہو گا بلکہ ان افراد کے لئے بھی ہو گا جو ان کے تابع ہیں چنانچہ اس حدیث میں جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کی قبولیت دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے تو جبریل سے کہتا ہے اور جبریل دوسرے ملائکہ سے۔ اور پھر ملائکہ سے یہ بات عالم سفلی میں اُتر آتی ہے اور اس شخص کی قبولیت انسانوں میں پھیل جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کارخانہ عالم ایک زنجیر کی طرح ہے اور اس کی پہلی کڑی ملائکہ ہیں اور جو زنجیر کی پہلی کڑی کو ہلائے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کے ملنے سے بعد کی کڑیاں بھی حرکت کریں اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ملائکہ کو کوئی حکم دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ل (النازعات: (1)