صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 864
صحيح البخاری جلد ۱۶ At ۹۷- كتاب التوحيد تشریح : كَلَامُ الرَّبِّ مَعَ جِبْرِيلَ وَنِدَاءُ اللهِ الْمَلَائِكَة : جبریل کے ساتھ رب کا کلام کرنا اور اللہ کا ملائکہ کو پکارنا جبرائیل ملائکتہ اللہ میں سے وہ واسطہ ہے جو بندے اور اس کے رب کے در میان اور بندوں کے باہمی نیک روابط قائم کرنے کے لئے مامور ہے۔شریعتیں اسی ایک غرض کے لئے نازل ہوتی رہیں اور ان کا نزول جبریل ہی کے توسط سے ہوا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ملائکہ کا ایک کام یہ بھی ہے کہ چونکہ وہ تمام اسباب مادیہ کی علت اولیٰ ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی مامور کو مبعوث فرماتا ہے تو ساتھ ہی انہیں بھی حکم ملتا ہے کہ وہ تمام کائنات کو اس کی تائید میں لگا دیں اور اس طرح کل دنیا ہی مامور کی خدمت میں لگ جاتی ہے اور وہ باوجود شدید مخالفت کے آخر غالب آجاتا ہے اور اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کے لئے اسے بھیجا جاتا ہے۔حدیث نبوی میں بھی یہ امر بیان ہوا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔اِذَا اَحَبَ اللهُ عَبْدُ انَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانَا فَاحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلَ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلانَا فَاحِتُوهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَعُ لَهُ الْقَبُولَ فِي الْأَرْضِ (بخاری جلد رابع کتاب الادب باب المقت من الله ) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے کہ میں خد ا فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں اس پر جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر جبریل دوسرے آسمانی فرشتوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو اس پر سب آسمانی وجود اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد دنیا کے لوگوں میں بھی اس کی قبولیت کی رُوح پیدا کر دی جاتی ہے۔اس حدیث میں اوپر کی آیت کا مضمون ہی دوسرے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ دنیوی تغیرات جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتے ہیں ان کی علت اولی ملائکہ ہیں اور ان کا ایک کام اللہ تعالیٰ کے مامورین کی قبولیت کا پھیلانا ہے۔چونکہ وہ دنیوی تغییرات کے سر براہ ہوتے ہیں ان کی تائید سے کل کار خانہ عالم مامورین کی تائید میں لگ جاتا ہے اور آسمانی تائیدات کو دیکھ کر سفلی وجود آخر ہدایت پا جاتے ہیں اور ماموروں کو قبول کر لیتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ ملائکہ روحانی