صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 862
صحیح البخاری جلد ۱۶ ٨٦٢ ۹۷۔کتاب التوحيد أَنْتَ أَي تَأْخُذُهُ عَنْهُمْ وَمِثْلُهُ فَتَلَقَّى (ملائکہ) سے لیتا ہے اور اسی کی طرح ہے یہ آیت أدمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمت (البقرة: ۳۸)۔بھی فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِت ! ٧٤٨٥: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۷۴۸۵ اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد الصمد عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن هُوَ نے ہمیں بتایا۔عبد الرحمن نے جو کہ عبد اللہ بن دینار ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔عبد الرحمن نے صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو صالح سے، عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللهَ قَدْ وَسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی بندے أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللهَ قَدْ سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر۔پھر أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ جبریل اس سے محبت کرتا ہے۔پھر جبریل آسمان السَّمَاءِ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ میں پکار کر کہتا ہے کہ اللہ کو فلاں شخص سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔چنانچہ آسمان والے الْأَرْضِ۔أطرافه: ٣٢٠٩، ٦٠٤٠ - اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین کے لوگوں میں اس کے لئے قبولیت ڈال دی جاتی ہے۔٧٤٨٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ۷۴۸۲: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔انہوں مَّالِكِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ فرمایا: کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع :" پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے۔“