صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 861 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 861

صحیح البخاری جلد ١٦ ۸۶۱ ۹۷- كتاب التوحيد سے لرزتے رہتے ہیں۔ پھر اس آیت سے اگلی آیت میں فرماتا ہے مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ( سورة بقره آیت ۲۵۶) یعنی کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور کسی کی سفارش کرے۔ بیشک حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی ای ایم اور انبیاء سابقین کے علاوہ آنحضرت صلی الم کے بعض امتی بھی شفاعت کرینگے۔ لیکن ان حدیثوں کے بارے میں میری تشریح یہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے ایسے افراد کی شفاعت صرف ظلی ہو گی اصل شفیع آنحضرت صلی اللہ علم ہی ہونگے ۔ وہ محمد رسول اللہ صلی العلیم سے سفارش کرینگے اور آپ اللہ تعالیٰ سے ۔۔۔ جب تک کوئی انسان اللہ اور اس کے رسول سے واصل نہ ہو جائے اور ان کو اپنا جوڑا نہ بنالے اس وقت تک اسے کسی قسم کی شفاعت میسر نہیں آئیگی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة البقرة، زير آيت مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَه ۔۔ جلد دوم صفحہ ۵۷۷) مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ : میں نے کسی عورت پر بھی اتنار شک نہیں کیا جتنا کہ シ حضرت خدیجہ پر۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے غیر معمولی وفا اور اطاعت شعاری کا نمونہ دکھایا۔ دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی وفات کے بعد انہیں نہیں بھولے۔ بندگانِ نفس تو بالعموم دوسری بیوی کے آنے پر پہلی کو اس کی حین حیات میں ہی گٹھلی کی طرح پھینکے دیتے ہیں۔ اس کی موت کے بعد اس کا کیا ذکر۔“ (صحيح البخاري، كتاب مناقب الأنصار ، باب تزويج النَّبِيِّ ﷺ خَدِيجَةً وَفَضْلِهَا ، جلدی، صفحہ ۳۰۰) بَاب ۳۳ : كَلَامُ الرَّبِّ مَعَ جِبْرِيلَ وَنِدَاءُ اللَّهِ الْمَلَائِكَةَ جبریل کے ساتھ رب کا کلام کرنا اور اللہ کا ملائکہ کو پکارنا وَقَالَ مَعْمَرُ وَ إِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ اور معمر نے کہا کہ وَ إِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآن کے معنی (العمل: ٧) أَيْ يُلْقَى عَلَيْكَ وَتَلَقَّاهُ ہیں کہ قرآن تجھ پر القا کیا جاتا ہے اور تو اس کو ان