صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 860
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۶۰ ۹۷ - كتاب التوحيد ہو سکتا ہے، جس میں یہ دونوں حصے کامل طور پر پائیں جائیں ، چونکہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کا مظہر ہو۔اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی اس سلسلہ کا ظل قائم رکھا، یعنی آدم علیہ السّلام کو جب پیدا کیا تو لا ہوتی حضہ تو اس میں یوں رکھ دیا۔جب کہا : فَإِذَا سَوَيْتُه وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سجدتين ) ( الحجر :۳۰) اور ناسوتی حصہ یوں رکھا کہ حوا کو اس سے پیدا کیا۔یعنی جب روح پھونکی تو ایک جوڑ آدم کا خدا تعالیٰ سے قائم ہوا۔اور جب تو انکالی تو دوسرا جوڑا مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسوتی ہو گیا۔پس جب تک یہ دونوں حصے کامل طور پر کامل انسان میں نہ پائے جائیں وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔جیسے آدم کی پسلی سے تو انکلی اسی طرح کامل انسان سے مخلوق نکلتی ہے۔“ ( ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۱۷۱،۱۷۰) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو ولی اور شفیع بنانیوالوں کو تو اس دن شفاعت کا حق پہنچیگا لیکن دوسروں کو نہیں اور نہ انکے حق میں شفاعت قبول ہو گی۔خدا تعالیٰ کو شفیع اسلئے قرار دیا کہ اسکی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں ہو سکتی پس اصل شفیع وہی ہے فرماتا ہے يَوْمَن لا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِيَ لَهُ قولات (ظه آیت (۱۱۰ یعنی اُشدن شفاعت سوائے اسکے جس کے حق میں شفاعت کر نیکی اجازت رحمن خدا دیگا اور جس کے حق میں بات کہنے کو وہ پسند کریگا اور کسی کو نفع نہیں دیگی۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہاں شفاعت بالا ذن ہو گی۔خدا تعالیٰ کو شفیع بنانے والوں کو تو شفاعت کا حق پہنچے گا لیکن اور کسی کو خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر شفاعت کا حق نہیں ہو گا۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (انبیاء آیت (۲۹) یعنی خدا تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے جو انہیں آئندہ پیش آنیوالا ہے اور جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور وہ سوائے اسکے جس کے لئے خدا نے یہ بات پسند کی ہو کسی کیلئے شفاعت نہیں کرتے اور وہ اس کے خوف