صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 859
صحیح البخاری جلد ١٦ ۸۵۹ ۹۷- كتاب التوحيد کی قوم بنا دیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالی نمونہ بھیج دیتا ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۲، صفحہ ۱۶۰) نیز فرماتے ہیں: تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ“ نیز فرمایا: کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹، صفحہ ۱۳، ۱۴) شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت کے ہیں۔ اس لیے شفیع وہ ہو سکتا ہے جو دو مقامات کا مظہر اتم ہو یعنی مظہر کامل لاہوت اور ناسوت کا ہو ۔ لاہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طرف صعود ہو۔ وہ خدا سے حاصل کرے اور ناسوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حاصل کرے وہ مخلوق کو پہنچادے اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اسی کی طرف اشارہ ہے: دنا فتدلی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم : ۱۰۰۹) ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدوں کامل حصہ مقام لاہوت کا کسی نبی میں نہیں آیا اور ناسوتی حصہ چاہتا ہے بشری لوازم کو ساتھ رکھے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں یہ ساری باتیں پوری پائی جاتی ہیں۔ آپ ۔ ہیں۔ آپ نے شادیاں بھی کیں ۔ بچے ا۔ بچے بھی ہوئے دوستوں کا زمرہ بھی تھا۔ فتوحات کر کے اختیاری قوتوں کے ہوتے ہوئے انتقام چھوڑ کر رحم کر کے بھی دکھایا ۔ جب تک انسان کے پیرا یہ پورے نہ ہوں، وہ پوری ہمدردی نہیں کر سکتا۔ اس حصہ اخلاق فاضلہ میں وہ نا مکمل رہے گا۔ مثلاً جس نے شادی ہی نہیں کی وہ بیوی اور بچوں کے حقوق کی کیا قدر کر سکتا ہے اور ان پر اپنی شفقت اور ہمدردی کا کیا نمونہ دکھا سکتا ہے۔ رہبانیت ہمدردی کو دور کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں رہبانیت کو نہیں رکھا۔ غرض کامل شفیع و ہی