صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 858
صحيح البخاری جلد ١٦ ۸۵۸ ۹۷- كتاب التوحيد حضور سفارش کام تشريح : ولا وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اس کے حضور سفار نہیں آتی مگر اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنے یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دُعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو جائے۔ یا کوئی بلا ٹل جائے۔ پس قرآن شریف کا ریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دُعا کرے کہ اس کو وہ مرتبہ حاصل ہو یہی حقیقت شفاعت ہے۔ سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا دور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے۔ چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے کہ اگر چہ شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دُعا کرنے میں لگے رہو اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے۔ اصل میں شفاعت کا لفظ شفع سے لیا گیا ہے۔ شفع جفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد ہے۔ پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے۔ اور یاد رہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دُعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔“ (نسیم دعوت، روحانی خزائن، جلد ۱۹، صفحه ۴۶۳، ۴۶۴) آپ مزید فرماتے ہیں: سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ