صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 855 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 855

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۵ ۹۷ - كتاب التوحيد عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْس قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيِّ حق ہی فرمایا۔اور حضرت جابر سے مذکور ہے کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَحْشُرُ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن اُنیش سے روایت اللهُ الْعِبَادَ فَيُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ بَعْدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ أَنَا سے سنا۔آپ فرماتے ہیں: اللہ بندوں کو اکٹھا کرے گا اور ایک ایسی آواز سے ان کو پکار کر کہے الْمَلِكُ أَنَا الدَّيَّانُ۔گا جس کو وہ بھی اسی طرح سنیں گے جو دور ہیں جیسے وہ سنیں گے جو قریب ہیں: میں بادشاہ ہوں میں ہی جزا سزا دینے والا ہوں۔٧٤٨١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۴۸۱: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ سَفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو سے ، عمرو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَى الله روایت کی۔وہ اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ تک پہنچاتے تھے۔آپ نے فرمایا: جب اللہ بِأَجْنِحَتِهَا حُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کی بات سن کر عاجزی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتے عَلَى صَفْوَانٍ۔قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ غَيْرُهُ۔ہیں جس کی ایسی آواز ہوتی ہے جیسے زنجیر کو پتھر صَفَوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذَلِكَ فَإِذَا فُزِعَ عَنْ پر مارنے سے۔علی بن مدینی) کہتے تھے : سفیان قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا کے سوا دوسرے راویوں نے کہا کہ اس حدیث الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔قَالَ عَلِيٌّ میں بجائے صَفْوَانٍ کے) صَفَوَانٍ ہے۔یہ آواز وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے جب ان کے عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا قَالَ دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ پوچھتے سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا؟ تو وہ جواب دیتے حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِهَذَا، قُلْتُ ہیں: حق ہی فرمایا۔اور وہ بہت بلند اور بہت ہی بڑا 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "قَالَ عَلى قُلْتُ " ہے (فتح الباری جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۵۶۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔