صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 854
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۴ ۹۷ - كتاب التوحيد تنزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ بِخَيفِ بَنِي كِنَانَةَ : ہم کل انشاء اللہ بنو کنانہ کے ٹیلہ پر اتریں گے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”حیف کے معنی پہاڑی کا ڈھلوان جو سیلاب کی زد سے باہر ہو۔(عمدۃ القاری جزء 9 صفحہ ۲۲۹) دوسری روایت سے واضح کیا ہے کہ یہ علاقہ محصب تھا جس میں نفر بن کنانہ کی اولاد آباد تھی اور وہ اس کے مالک تھے۔قریش بھی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور آپ کا مقاطعہ کرنے میں پیش پیش تھے اس لئے ان کا ذکر خصوصیت سے علیحدہ کیا گیا ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح كتاب الحج، باب نُزُولِ النَّبِي مكة ، جلد ۳، صفحه ۲۶۴) باب ۳۲: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَةٌ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُرْعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقِّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الكبير (سبا: ٢٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اس کے حضور سفارش کام نہیں آتی مگر اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی وہ کہیں گے : تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہیں گے : حق ہی فرمایا اور وہ بہت ہی عالی شان بہت ہی بڑا ہے وَلَمْ يَقُلْ مَاذَا خَلَقَ رَبُّكُمْ وَقَالَ جَلَّ یہی نہیں فرمایا: تمہارے رب نے کیا پیدا کیا؟ اور ذِكْرُهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةٌ إِلَّا الله جل ذکرہ نے فرمایا: یعنی کون ہے جو اس کی باذنه (البقرة: ٢٥٦)۔وَقَالَ مَسْرُوق اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرے؟ اور مسروق نے حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِذَا تَكَلَّمَ اللَّهُ بِالْوَحْيِ جب اللہ وحی کرتے وقت بات کرتا ہے اور آسمان سَمِعَ أَهْلُ السَّمَوَاتِ شَيْئًا فَإِذَا فُزِعَ والے کچھ سنتے ہیں۔جب ان کے دلوں سے عَنْ قُلُوبِهِمْ وَسَكَنَ الصَّوْتُ عَرَفُوا گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے اور آواز تھم جاتی ہے أَنَّهُ الْحَقُّ وَنَادَوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ تو وہ پہچان لیتے ہیں کہ وہ حق ہے اور پکار کر پوچھتے قَالُوا الْحَقَّ وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں: